احکام نماز

صاحب فراش یا قریب الوفات شخص کی چھوٹ جانے والی نمازوں کی قضاء ہے یا نہیں ؟

فتوی نمبر :
2970
| تاریخ :
2007-11-04
عبادات / نماز / احکام نماز

صاحب فراش یا قریب الوفات شخص کی چھوٹ جانے والی نمازوں کی قضاء ہے یا نہیں ؟

مریض آدمی یا صاحب فراش مریض یا قریب الوفات شخص کی جتنی نمازیں قضاء ہوگئی ہوں، ان کا کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر مذکور مریض ایسا ہو جو اشارہ سے بھی نماز پرھنے کی قدرت نہ رکھتا ہو یا مرض کی وجہ سے سرے سے مغلوب العقل ہو گیا ہو تو ان ایام کی نمازیں پڑھنا اور اس کی قضاء کرنا اس کے ذمہ لازم نہیں، البتہ جو نمازیں اس حالت سے قبل کی ہیں بشرط صحت ان کی قضاء ورنہ ان کےفدیہ دینے کی وصیت لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی حاشية ابن عابدين:(وكثرت الفوائت) بأن زادت على يوم وليلة (سقط القضاء عنه) وإن كان يفهم في ظاهر الرواية(وعليه الفتوى)اھ(2/ 99)
وفی حاشية ابن عابدين:[تنبيه]جعل في السراج المسألة على أربعة أوجه إن زاد المرض على يوم وليلة وهو لا يعقل فلا قضاء إجماعا وإلاوهو يعقل قضى إذا صح إجماعا،وإن زاد وهو يعقل أولاوهولايعقل فعلى الخلاف.(2/ 100)
وفی الفتاوى الهندية: وإذا عجز المريض عن الإيماء بالرأس في ظاهر الرواية يسقط عنه فرض الصلاة اھ (1/ 137)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسیب احمد حبیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 2970کی تصدیق کریں
0     674
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات