احکام نماز

مزار پر نماز پڑھنے اور دف بجانے کا حکم

فتوی نمبر :
30393
| تاریخ :
عبادات / نماز / احکام نماز

مزار پر نماز پڑھنے اور دف بجانے کا حکم

السلام علیکم!
حضرت ہمارے علاقہ میں ایک مزار ہے جہاں ناچ گانا ہوتاہے اور نماز ودعا بھی ہوتاہے اوران مزار پر کام کرنے والوں نے کہاہے کہ یہ گانا بہت ثواب کا کام ہے اور شریعت میں دف نام سے مشہور ہے جو حلال ہے , تو میرا سوال یہ ہے کہ مزار پر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ اور شریعت میں دف بجانے کا کیا حکم ہے جواب دے کر عند اللہ ماجور ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر قبر سامنے نہ ہو تو مزار کے احاطہ میں نماز پڑھنا جائز ہے مگر وہاں ڈھول بجانا اور گانا جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی مرقاة المفاتیح: عن حذیفة رضی اللہ عنه: قال: قال رسول اللہﷺ: ’’فضلنا علی الناس بثلاث جعلت صفوفنا کصفوف الملائکة وجعلت لنا الارض کلها مساجدًا الخ. (۲/ ۲۲۵)-
وفی الشامیة: لا تکره الصلاة فی جهة قبر إلا اذا کان بین یدیه، بحیث لو صلی صلاة صلاة الخاشعین وقع بصره علیه الخ. (۱/ ۶۵۴)-
وایضًا: بقی فی المکروهات أشیاء (الٰی قوله) والصلاة فی مظان النجاسة کمقبرة وحمام، إلا اذا غسل موضعا منه ولا تمثال، أو صلی فی موضع نزع الثباب أو کان فی المقبرة موضع أعد للصلاة ولا قبر ولا نجاسة فلا بأس کما فی الخانیه الخ. (۱/ ۶۵۴)-
وفی البحر الرائق: وفی المعراج الملاهی نوعان محرم وهو الآلات المطربة من غیر الغناء کالمزمار سواء کان عود أو قصب کالشبابة أو غیره کالعود والطنبور لما روی ابو امامة انه علیه الصلاة والسلام قال انّ اللہ بعثنی رحمة للعٰلمین وأمرنی بمحق المعازف والمزامیر ولأنه مطرب مصد عن ذکر اللہ تعالٰی الخ. (۷/ ۸۸)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 30393کی تصدیق کریں
0     744
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات