احکام نماز

نماز کے وقت میں کھانا پہلے کھایا جائے یا نماز پہلے پڑھی جائے؟

فتوی نمبر :
33520
| تاریخ :
2018-03-17
عبادات / نماز / احکام نماز

نماز کے وقت میں کھانا پہلے کھایا جائے یا نماز پہلے پڑھی جائے؟

کھانا کھا لینا زیادہ ضروری ہے پہلے یا نماز پڑھنا ضروری ہے پہلے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر کھانے کی طرف اشتیاق بہت زیادہ نہ ہو جس سے اس بات کا اندیشہ ہو کہ دورانِ نماز دل و دماغ کی توجہ نماز کے بجائے کھانے میں رہے گی ،تو ایسی صورت میں کوشش یہ کرنی چاہیے کہ نماز کے وقت میں کھانا ہی نہ لگایا جائے، تاہم اگر کھانا لگ گیا ہو تو ایسی صورت میں کھانا کھا کر بعد میں نماتر پڑھنا چاہیے، تاکہ نماز کامل توجہ کے ساتھ پڑھی جا سکے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الصحيح للبخاري : باب اذا حضر الطعام و أقیمت الصلاة وكان ابن عمر رضی اللہ عنه يبدأ بالعشاء وقال ابو الدرداء من فقه المرء إقباله على حاجته حتى يقبل على صلاته وقلبه فارغ - وعن عائشة رضى الله عنها عن النبي صلى الله وسلم أنه قال إذا وضع العشاء وأقيمت الصلوة فابدءوا بالعشاء - (۱/ ۹۲)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاسم على رفيع عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 33520کی تصدیق کریں
0     840
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات