(۱)۔ اسلام میں ناخن کے بڑھانے کے متعلق کیا حکم ہے؟ چالیس دن کے اندر ناخن تراشنا اس طرح لازم ہے کہ مکمل کاٹ لیے جائیں یا پورے ناخن پر ناخن کٹر سے تھوڑا تھوڑا کاٹ کر مزید چالیس دن کیلئے ناخن بڑھائے جاسکتے ہیں؟
(۲)۔ میر بھانجی جو کہ اس وقت پونے تین سال کی ہے، گڈے گڑیا سے بہت شوق سے کھیلتی ہے، تو ان چیزوں کا گھر میں ہونے سے نماز بالکل نہیں ہوتی یا فرشتے نہیں آتے،رکھنے کی اجازت ہے یا نہیں؟
(۳)۔ ایک نماز کے دوران ہی چار سے چھ مرتبہ وضو ٹوٹ جاتا ہو تو ہر بار وضو کرنا پڑے گا؟ یا یہ کہ کسی بیماری میں شمار ہوگا اور ایک ہی وضو میں پوری نماز پڑھ سکتے ہیں؟ وضو گیس کی وجہ سے ٹوٹتاہے۔
(۱)۔ ہفتہ میں ایک دفعہ ناخن کاٹنا مستحب ہے، اور ناخن کاٹنے کا طریقہ یہ ہے کہ ناخن کا جو حصہ انگلیوں سے بڑھا ہوا ہوتاہے اس اضافی حصے کو کاٹ کر انگلیوں کے برابر کردیا جائے، جبکہ بلا عذر چالیس دن سے زائد ناخن نہ کاٹنا مکرو ہ ہے جس سے احتراز لازم ہے۔
(۲)۔ جو کھلونے چھوٹے موٹے معمولی نوعیت کے نہ ہوں بلکہ ان میں باقاعدہ کسی جاندار کی شکل وصورت (کان ناک، آنکھیں وغیرہ) نمایاں طور پر واضح ہو تو ایسے کھلونوں کی خرید وفروخت، کمائی اور ان کو گھروں میں رکھنے سے احترازلازم ہے۔
(۳)۔ جو صورت سائلہ نے بیان کی ہے اگر اس بیماری کے دوران کسی بھی نماز کے پورے وقت میں عذر کے تسلسل کی وجہ سے اسے اتنا وقت بھی نہ ملے کہ جس میں وہ کامل طہارت کے ساتھ وقتیہ فرض نماز ادا کرسکے، تو اس صورت میں شرعاً وہ معذور کے حکم میں داخل ہوگی، اور تفصیل اس حکم کی یہ ہے کہ مثلاً ادائیگئِ ظہر کیلئے وہ ظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے، اگر اسے اس دوران اتنا وقت نہ ملے کہ وہ کامل طہارت کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کرسکے تو عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کرکے فقط فرض نمازِ ظہر ادا کرے۔
اس کے بعد نمازِ عصر کی ادائیگی کیلئے پورا وقت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ عصر کا وقت داخل ہوتے ہی نیا وضو کرکے عصر کی نماز ادا کرلے، اس دوران اگر ریح (ہوا) خارج بھی ہوجائے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، اسی طرح مغرب وعشاء میں بھی وہ ایسا ہی کرلے کہ ہر نماز کیلئے الگ الگ وضو کرلیا کرے، اس پورے وقت میں اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقض وضو نہ پایا گیا تو مذکور عذر کے بار بار صادر ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔
البتہ اس دوران اگر پورا وقتِ نماز کوئی ایسا گزر جائے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہواہو تو شرعاً وہ معذور نہیں رہے گی، اس لئے اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے موافق عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
کما فی الهندیة: الافضل أن یقلم اظفاره ویحفی شاربه ویحلق عانته وینظف بدنه بالاغتسال فی کل اسبوع مرة فان لم یفعل ففی کل خمسة عشر یومًا ولا یعذر فی ترکه وراء الأربعین، فالاسبوع هو الأفضل، والخمسة عشر الأوسط والأربعون الابعد، ولا عذر فیما وراء الاربعین ویستحق الوعید، کذا افی القنیة. (۵/ ۳۵۷، ۳۵۸۔
کما فی الدر المختار: (اشتری ثورًا أو فرسًا من خزف) للأجل (استئناس الصبی لا یصح) ولا قیمة له (فلا یضمن متلفه وقیل بخلافه) یصح ویضمن قنیة وفی آخر حظر المجتبی عن ابی یوسف رحمه اللہ یجوز بیع اللعبة وأن یلعب بها الصبیان. (۵/ ۲۲۶)۔
کما فی الهداية في شرح بداية المبتدي: "والمستحاضة ومن به سلس البول والرعاف الدائم والجرح الذي لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة فيصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل"(الی قولہ) والمستحاضة هي التي لا يمضي عليها وقت صلاة إلا والحدث الذي ابتليت به يوجد فيه وكذا كل من هو في معناها وهو من ذكرناه ومن به استطلاق بطن وانفلات ريح لأن الضرورة بهذا تتحقق وهي تعمم الكل. (1/ 34/35)۔