۱۔محترم جناب مفتی صاحب! عشاء کی نماز بطورِ قضاء پڑھی جا سکتی ہے؟ کیونکہ میرے استاد کا کہنا ہے کہ آپ تمام فرض نمازوں کی قضاء پڑھ سکتے ہو ، سوائے عشاء کے؟
۲۔اگر میں عشاء کی قضاء پڑھ سکوں تو وتر واجب کا کیا حکم ہے؟
۳۔عورتوں کے لۓ مزارات میں جانے کی اجازت ہے؟
۱ ، ۲ ۔ قضاء تو بشمولِ عشاء سب نمازوں کی جائز بلکہ لازم ہے ، اور اس میں وتر بھی شامل ہے اور مکروہ اوقات کے علاوہ ہر وقت ، قضاء نماز پڑھنے کی اجازت ہے، مگر سائل کے استاد نے کس بناء پر عشاء کی قضاء سے منع فرمایا ہے ؟ اگر اس کی مکمل صراحت اور تفصیل لکھ کر اس مسئلہ کو دوبارہ ای میل کر دیا جائے، تو ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کر دیا جائےگا۔
۳۔عورتوں کا بلاوجہِ شرعی مزارات پر جانا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے ،اور کوئی عذرِ شرعی ہو تو اس کی مکمل وضاحت لکھ کر ای میل کر دیں ان شاء اللہ اس پر غور و فکر کرنے کے بعد حکمِ شرعی سے بھی آگاہ کر دیا جائےگا۔
فی الدر المختار : و قضاء الفرض و الواجب و السنة فرض و واجب و سنة اھ (2/ 66)۔
و فی الفتاوى الهندية : و القضاء فرض في الفرض و واجب في الواجب و سنة في السنة ثم ليس للقضاء وقت معين بل جميع أوقات العمر وقت له إلا ثلاثة ، وقت طلوع الشمس ، و وقت الزوال ، و وقت الغروب فإنه لا تجوز الصلاة في هذه الأوقات ، كذا في البحرالرائق . (1/ 121)۔
و فی مشكاة المصابيح : و عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لعن زوارات القبور . رواه أحمد و الترمذي و ابن ماجه و قال الترمذي هذا حديث حسن صحيح و قال : قد رأى بعض أهل العلم أن هذا كان قبل أن يرخص النبي في زيارة القبور فلما رخص دخل في رخصته الرجال و النساء . و قال بعضهم : إنما كره زيارة القبور للنساء لقلة صبرهن و كثرة جزعهن . تم كلامه (1/ 554)۔