احکام نماز

دوران نمازوضوءٹوٹ جائےتو کیا کرنا چاہیے-ایک وقت میں کتنی قضانمازاداءکرسکتےہیں؟

فتوی نمبر :
3392
| تاریخ :
عبادات / نماز / احکام نماز

دوران نمازوضوءٹوٹ جائےتو کیا کرنا چاہیے-ایک وقت میں کتنی قضانمازاداءکرسکتےہیں؟

۱۔ کیا جماعت کی نماز میں وضو ٹوٹ جائے تو فوراً نکلیں؟
۲۔ قضاء نماز دو، ایک وقت میں پڑھ سکتے ہیں؟
۳۔ عشاء کی نماز کا آخری وقت کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔ جی ہاں! اگر نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو فوراً نکل جائیں اور وضو کر کے اس کی بناء کریں یا نئے سرے نماز پڑھیں۔
۲۔ ایک ہی وقت میں کئی قضاء نمازیں بھی پڑھ سکتے ہیں۔
۳۔ عشاء کی نماز کا آخری وقت اگر چہ صبح صادق تک ہے، مگر بہت زیادہ تاخیر کرنا مکروہ ہے، اس سے احتراز چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی سنن أبي داود: عن علي بن طلق، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا فسا أحدكم في الصلاة، فلينصرف فليتوضأ وليعد الصلاة» اھ (1/ 53)
ففی الدر المختار: ولو لم يسع الوقت كل الفوائت فالأصح جواز الوقتية مجتبى (2/ 67)
وفیه أیضاً: كثرت الفوائت نوى أول ظهر عليه أو آخره اھ (2/ 76)
ففی الفتاوى الهندية: ووقت العشاء والوتر من غروب الشفق إلى الصبح. كذا في الكافي. (1/ 51)
وفی الدر المختار: (و) وقت (العشاء والوتر منه إلى الصبح) اھ (1/ 361)
وفی الفتاوى الهندية: ويكره أداء العشاء ما بعد نصف الليل. هكذا في البحر الرائق. (1/ 53)
وفی البحر: وأفاد أن التأخیر إلی نصف اللیل لیس بمستحب وقالوا أنه مباح وإلی ما بعده مکروه اھ (۱/ ۲۴۸)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 3392کی تصدیق کریں
0     152
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات