بچیوں کا گڑیا سے کھیلنا کیسا ہے؟ اور نماز کے دوران اگر بچے گڑیا سامنے لے آئیں تو نماز کا کیا حکم ہے؟
ایسے کھلونے اور گڑیا جو تصویرِ محرّم کی شکل میں ہوں،ان کی خریدو فروخت اور ان سے کھیلنا وغیرہ ناجائز اور حرام ہے،احادیثِ مبارکہ میں اس پر سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئیں ہیں،البتہ ایسے کھلونے اور گڑیا جن کی شکلیں نمایاں نہ ہونے کی وجہ سے تصویرِ محّرم میں داخل نہ ہوں تو ایسے کھلونے بچوں کیلئے خریدنا اور بیچنا مباح ہے،جبکہ اس طرح کے کھلونے نمازی کے سامنے بھی اگر رکھ دیے جائیں تو نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوگا۔
کمافی تکملة فتح الملھم: قلت: ومن اجاز اللعب للصبیان فانما اجازھا اذا کانت لعباً بسیطة یلعب بھا الصبیة، اما اذا کانت فی صورة اصنام مجسدة واستعملھا الناس لتزین الجدران وغیرھا فلم یجزھا احد اھ(5/149)۔
وفی الشامیة: عن ابی یوسف یجوز بیع اللعبة وان یلعب بھا الصبیان اھ(1/650)۔