مجھے کمر کے مہروں کا مسئلہ ہے ، ڈاکٹر نے کرسی پر نماز کا بولا ہے، میرے لۓ کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ جو شخص زمین پر سرٹکا کر سجدہ کرنے سے عاجز ہو ، لیکن قیام اور رکوع پر قادر ہو تو اس کو چاہیۓ کہ قرأت باقاعدہ کھڑے ہوکر کرے اور رکوع بھی باقاعدہ کھڑے ہو کر کرے ، اور اگر رکوع پر قدرت نہ ہو تو رکوع کا اشارہ کھڑے ہو کر بھی کر سکتا ہے اور بیٹھ کر بھی ، اور سجدہ بیٹھ کر اشارے سے کرے اگر بقیہ رکعتیں بھی اسی طرح پڑھ سکتا ہو تو اسی طرح پڑھے، لیکن اگر کوئی شخص پوری نماز ہی بیٹھ کر پڑھ لے تو یہ بھی جائز ہے، تاہم رکوع اور سجدے سے معذوری کی صورت میں زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے، بلا عذر اور مجبوری کے کرسی کا استعمال نہیں کرنا چاہیۓ ، البتہ عذر اور مجبوری کی صورت میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا بھی جائز اور درست ہے ، اور اس صورت میں رکوع اور سجدے کے لۓ اشارہ کرنا بھی جائز ہے ، اور اگر سامنے کرسی کی نشست کے برابر یا اس سے معمولی اونچی چیز پر سر ٹکا کر سجدہ کرلے تو یہ بھی جائز ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں، چنانچہ سائل اس تفصیل کے مطابق عمل کر سکتا ہے۔
في الدر المختار : (و إن تعذرا) ليس تعذرهما شرطا بل تعذر السجود كاف (لا القيام أومأ) بالهمز (قاعدا) و هو أفضل من الإيماء قائما لقربه من الأرض (و يجعل سجوده أخفض من ركوعه) لزوما اھ (2/ 97)۔
و في حاشية ابن عابدين تحت : (قوله بل تعذر السجود كاف) نقله في البحر عن البدائع و غيرها. و في الذخيرة : رجل بحلقه خراج إن سجد سال و هو قادر على الركوع و القيام و القراءة يصلي قاعدا يومئ ؛ و لو صلى قائما بركوع و قعد و أومأ بالسجود أجزأه ، و الأول أفضل اھ (2/ 97)۔