کاٹن کے کپڑے باریک ہوتے ہیںِ کیا ستر چھپانے اور نماز میں کوئی کراہیت لازم آتی ہے؟ نیز کتنا باریک کپڑا ہوتو نماز نہیں ہوگی؟ کاٹن کے کپڑے کا حکم بھی بتادیں۔
کاٹن یا کوئی بھی کپڑا اگر اس قدر باریک ہو کہ اس سے عورت کا جسم چھلکتا ہوا نظر آتا ہو، یا مرد کا ناف سے لیکر گھٹنوں تک کا ستر نہ ڈھکتا ہو تو اس قدر باریک لباس پہننا اور اس میں نماز ادا کرنا ہر دو اُمور شرعاً جائز نہیں، بلکہ اس میں ادا کی جانے والی نماز بھی شرعاً درست ادا نہ ہوگی، اس لئے اس طرح باریک لباس پہننے سے احتراز لازم ہے۔
ان عائشۃ أن أسماء بنت أبی بکر، دخلت علی رسول اللہ ﷺ وعلیہا ثیاب رقاق، فأعرض عنہا رسول اللہ ﷺ وقال: ’’یا أسماء، إن المرأۃ إذا بلغت المحیض لم تصلح أن یری منہا إلا ہذا وہذا‘‘ وأشار إلی وجہہ وکفیہ۔ (رواہ ابو داؤد) واللہ اعلم بالصواب