احکام نماز

کرسی پر نمازپڑھنے کا مفصل طریقہ

فتوی نمبر :
35015
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / احکام نماز

کرسی پر نمازپڑھنے کا مفصل طریقہ

محترم مفتی صاحب! جماعت کے ساتھ نماز کرسی پر نماز پڑھنے کا طریقہ اگر قیام کھڑے ہوکر کرنا ہوتو کرسی کے اگلے پاؤں کہاں ہوں گے؟
(۱) صف کے پچھلے کنارے پر ؟
(۲) دو صفوں کے درمیان؟
(۳) صف کس طرح سیدھی ہوگی؟
(۴) کندھے کے ساتھ کندھا کس طرح ہوگا؟
(۵) پاؤں کے ساتھ پاؤں کس طرح ہوگا؟
(۶) اگر بیٹھ کر پڑھے گا تو فرض قیام کا کیا ہوگا؟
(۷) بیٹھ کر پڑھنے سے کندھے برابر ہوجائیں گے؟
(۸) بیٹھ کر پڑھنے سے پاؤں آگے ہوجائیں گے۔
(۹) کرسی پیچھے کرنے سے پچھلی صف خراب ہوجائے گی۔
(۱۰) اوپر کی نمبر شمار دو (۲) کے تحت اگر کرسی کے پچھلی ٹانگیں صف کے پیچھے رکھیں اور قیام کرنے کی طاقت رکھنے کے باوجود کرسی پر بیٹھ کر صف کو سیدھا کرنے کی خاطر نماز پڑھی جائے تو کیسی ہے کیونکہ اس کا فتویٰ کسی مفتی صاحب نے دیا تھا کہ حدیث کے مطابق صف کا سیدھا کرنا فرض ہے کہ کندھے کے ساتھ کندھا ہو؟ امید ہے کہ تفصیلی جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں گے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سب سے پہلے تویہ جاننا چاہئے کہ بلا کسی عذر کے کرسی پر بیٹھ کر فرض نماز پڑھنا جائز نہیں البتہ اگر کوئی عذر ہو جیسے کہ رکوع، اور زمین پر سر ٹکاکر سجدہ کرنے کی استطاعت نہ ہو تو ایسی صورت میں کرسی کے بجائے زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے، بلا کسی عذر اور مجبوری کے نماز کیلئے کرسی کا استعمال نہیں کرنا چاہئے البتہ عذر کی صورت میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا بھی جائز اور درست ہے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ صف کے اطراف میں کرسی اس طرح رکھی جائے کہ کرسی کے پچھلے پائے صف کے کنارے پر وہاں آئیں جہاں صف سیدھی کرنے کیلئے ایڑیاں رکھی جاتی ہیں، مجبوری کی صورت میں کرسی پر نماز پڑھنے کے دوران کندھے سے کندھا ملانا یا پا ؤں کے ساتھ پاؤں برابر کرنا یا قیام کرنا کوئی لازم نہیں۔


کما فی الدر المختار: (من تعذر علیہ القیام) أی کلہ (لمرض) (الی قولہ) (صلی قاعدا) ولو مستندا إلی وسادۃ أو إنسان فإنہ یلزمہ ذلک علی المختار (کیف شاء) علی المذہب لأن المرض أسقط عنہ الأرکان فالہیئات اولی۔ الخ (ج۲، ص۹۵)۔


وفی الشامیۃ: تحت (قولہ بل تعذر السجود کاف) نقلہ فی البحر عن البدائع وغیرہا، وفی الذخیرۃ: رجل بحلقہ خراج إن سجد سال وہو قادر علی الرکوع والقیام والقراءۃ یصلی قاعدا یومی؛ ولو صلی قائما برکوع وقعد وأوما بالسجود أجزاہ، والأول افضل لأن القیام والرکوع لم یشرعا قربۃ بنفسہما، بل لیکونا وسیلتین إلی السجود۔ اھـ قال فی البحر: ولم أر ما إذا تعذر الرکوع دون السجود غیر واقع۔ اھـ (ج۲، ص۹۷)۔ واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
فضل الرحمن جدون عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 35015کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات