مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک کاروبار ڈال رہا ہوں، پر میرے پاس پیسے نہیں ہے اتنے کہ پورا ڈال سکوں ،تو میں بھینسیں ادھار پر لے رہا ہوں پر جو مالک ہے وہ کہہ رہا ہے کہ اگر آپ ادھار پر لوگے تو میں آپ کو ایک لاکھ ساٹھ ہزار کی دوں گا ایک بھینس، نہیں تو ایک پچاس کی نقد میں لے لو، پر پیسے نہیں ہے، تو وہ کہہ رہے ہیں ایک لاکھ ساتھ ہزار کی لے لو ادھار پر اس سے زیادہ رقم نہیں ہے، یہی طے کر رہا ہے، کوئی قسط وغیرہ نہیں ہے، اتنی ہی دینی ہے تو کیا یہ سود ہوگا؟ اگر آپ جواب دیں گے تو مہربانی ہوگی، وہ کہہ رہا ہے میرا اجرت ہے ایک بھینس پردس ہزار۔
صورت مسئولہ میں سائل مذکور شخص کے ساتھ مجلس عقد میں طے کر لے کہ معاملہ ادھار ہوگا،اور یہ بھی طے کر لے کہ مذکو ر قم کتنی قسطوں میں ادا کرنا ہو گی اور ہر قسط کی مقدار کیا ہو گی ، اور یہ بھی طے کر لے کہ کسی قسط کی تاخیر کی صورت میں چارجز (جرمانہ) لاگو نہ ہونگے، چنانچہ اس طرح معاملہ کرنے سے شرعاً بھی درست ہو گا۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0