احکام نماز

آر پار نظر آنے والے شیشہ کے پار سے نمازی کے سامنے سے گزرنا

فتوی نمبر :
35856
| تاریخ :
2018-11-06
عبادات / نماز / احکام نماز

آر پار نظر آنے والے شیشہ کے پار سے نمازی کے سامنے سے گزرنا

کیا فرماتے ہیں علماءِ دین کی پلاسٹک کے پردے یا شیشہ کا دروازہ جو آرپار نظر آتا ہو، اس کے سامنے اگر کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہے، تو اس کے سامنے سے گزرا جا سکتا ہے یا نہیں؟ ایک عالم صاحب کا کہنا ہے کہ ، اگر پردہ یا دروازہ زمین کے ساتھ چپکا ہوا ہے، تو سترے کے حکم میں ہے ورنہ نہیں۔ اس کا جواب دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ سترہ کا زمین کے ساتھ چپکا ہوا ہو نا کوئی ضروری نہیں، بلکہ اگر چھت وغیرہ کے ساتھ لٹکا ہوا پردہ وغیرہ ہو ، تو وہ بھی سترہ کا قائم مقام شمار ہوگا، لہٰذا پلاسٹک کا پردہ یا شیشے کا دروازہ اگر نمازی کے سامنے ہو ،تو یہ بھی سترہ کے حکم میں ہے ، اور اس کے سامنے سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی حاشية ابن عابدين: (قوله وغلظ أصبع) كذا في الهداية، لكن جعل في البدائع بيان الغلظ قولا ضعيفا، وأنه لا اعتبار بالعرض. وظاهره أنه المذهب بحر، ويؤيده ما رواه الحاكم وقال على شرط مسلم أنه - صلى الله عليه وسلم - قال «يجزي من السترة قدر مؤخرة الرحل ولو بدقة شعرة» اھ (1/ 637)
وفیه أیضاً: (قوله ولو ستارة ترتفع) أي تزول بحركة رأسه إذا سجد، وهذه الصورة ذكرها سعدي جلبي جوابا عن صاحب الهداية حيث اختار أن الحد موضع السجود كما مشى عليه المصنف، فأورد عليه أنه مع الحائل كجدار أو أسطوانة لا يكره والحائل لا يمكن أن يكون في موضع السجود. فأجاب سعدي جلبي بأنه يجوز أن يكون ستارة معلقة إذا ركع أو سجد يحركها رأس المصلي ويزيلها من موضع سجوده ثم تعود إذا قام أو قعد. اهـ. وصورته أن تكون الستارة من ثوب أو نحوه معلقة في سقف مثلا ثم يصلي قريبا منها فإذا سجد تقع على ظهره ويكون سجوده خارجا عنها وإذا قام أو قعد سبلت على الأرض وسترته تأمل اھ (1/ 636) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ضیاء الرحمن اجمل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 35856کی تصدیق کریں
0     1009
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات