احکام نماز

دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنا

فتوی نمبر :
36180
| تاریخ :
2018-12-16
عبادات / نماز / احکام نماز

دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنا

گزارش ہے کہ مندرجہ ذیل مسائل کی قرآن وحدیث کی رو سے تشریح کر دیں:
۱۔ سفر یا بغیر سفر کسی بھی وجہ سے نمازوں کو جمع کرنا ۔
۲۔ وضو میں پاؤں دھونے کے بجائے ان پر صرف مسح کرنا۔
ہم سعودی عرب میں رہتے ہیں، اور یہاں کام کرتے ہیں، تو اکثر اوقات سفر میں بھی رہتے ہیں، ہمارے ساتھ اہلِ حدیث والے بھائی بھی ہیں ، جو نمازوں کو اکثر جمع کرتے ہیں ، اور وضو میں پاؤں پر مسح کرتے ہیں، اس مسئلہ کے بارے میں صحیح احادیث بھی بتلاتے ہیں، راہ نمائی فرما دیں!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ، ایامِ حج میں عرفات اور مزدلفہ کے علاوہ کسی بھی موقع پر خواہ سفر ہو یاحضر ہو ، دو نمازوں کو جمع کر کے ایک وقت میں پڑھنا جائز نہیں، بلکہ ہر نماز کو اس کو اپنے وقت میں ہی پڑھنا لازم ہے ، ورنہ صرف وہی نماز ادا ہوگی جو اپنے وقت میں پڑھی گئی ہو، دوسری نماز کے قضا کرنے کا گناہ ہوگا، البتہ اگر کوئی شخص سفر وغیرہ کے عذر کی بنا پر اس طور پر دو نمازوں کو جمع کرے کہ مثلاً ظہر کے آخر وقت میں پڑھے اور عصر کا وقت داخل ہونے پر پہلےہی وقت میں پڑھ لے، تو اس طرح نمازوں کو ادا کرنا درست ہوگا۔
جبکہ وضو میں پاؤں دھونا فرض ہے ، اس کے بغیر وضو نہیں ہوگا ، اور نہ نماز اس سے درست ہوگی، لہٰذا کسی عذرِ شرعی کے پاؤں پر مسح کرنے سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی أحكام القرآن للجصاص: تحت قوله ﴿وامسحوا برءوسكم وأرجلكم إلى الكعبين﴾ (إلی قوله) وأيضا فإن اللفظ لما وقف الموقف الذي ذكرنا من احتماله (إلی قوله) صار في حكم المجمل المفتقر إلى البيان (إلی قوله) فأما وروده من جهة الفعل فهو ما ثبت بالنقل المستفيض المتواتر أن النبي صلى الله عليه وسلم غسل رجليه في الوضوء (إلی قوله) وأما من جهة القول فما روى جابر وأبو هريرة وعائشة وعبد الله بن عمر وغيرهم أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى قوما تلوح أعقابهم لم بصبها الماء فقال ويل للأعقاب من النار أسبغوا الوضوء اھ (3/ 350)
وفی سنن الترمذي: عن ابن عباس، قال: جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم بين الظهر والعصر، وبين المغرب والعشاء بالمدينة من غير خوف ولا مطر، قال: فقيل لابن عباس: ما أراد بذلك؟ قال: أراد أن لا يحرج أمته. وفی حاشیته: قال ابوحنیفةؒ وأصحابه بالجمع فعلا اھ (1/ 258)
وفی أحكام القرآن للجصاص: قال الله تعالىٰ: ﴿إن الصلاة كانت على المؤمنين كتابا موقوتا﴾ روي عن عبد الله بن مسعود أنه قال إن للصلاة وقتا كوقت الحج (إلی قوله) قال أبو بكر قد انتظم ذلك إيجاب الفرض ومواقيته لأن قوله تعالى كتابا معناه فرضا وقوله موقوتا معناه أنه مفروض في أوقات معلومة اھ (3/ 247)
وفی الفتاویٰ التاتارخانیة: الجمع بین الصلاتین فعلا بعذر المطر جائز احرازا لفضیلة الجماعة، ذلك بتاخیر الظهر وتعجیل العصر اھ (407/1)- واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کامران صادق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 36180کی تصدیق کریں
0     713
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات