میرے شوہر مجھے نوکری نہیں کرنے دیتے اور خود مجھے میرے والدین سے ملنے بھی نہیں دیتے اور اگر میں خود چلی جاؤں تو مجھے طعنے دیتے ہیں کہ میرے پیسے رکشہ میں خرچ کرتی ہو، کیا اسلام مرد کو ان سب باتوں کی اجازت دیتا ہے ؟ اس حال میں، میں کیا کروں؟
واضح ہو کہ بیوی کا نان و نفقہ شرعاً اس کے شوہر کے ذمہ لازم ہوتا ہے اس لئے اگر سائلہ کا شوہر اس کا نان و نفقہ اپنی استطاعت کے مطابق مہیا کر رہا ہو تو سائلہ کو اس کی اجازت کے بغیر ملازمت کی غرض سے باہر نکلنا جائز نہیں، البتہ سائلہ کبھی کبھار( ہفتہ میں ایک ادھ مرتبہ) والدین کی زیارت کی غرض سے نکل سکتی ہے، مگر اس کو چاہیے کہ بلا اجازت ایسا نہ کرے اور اپنے شوہر کی حیثیت کا خیال کرتے ہوئے سواری کا استعمال کرے جبکہ شوہر کو بھی چاہیے کہ اس سلسلہ میں بیوی کی عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے بے جا سختی یا طعنہ زنی کرنے سے احتراز کرے۔
ففي الفقه الإسلامي وأدلته: أما خروج المرأة من بيت الزوج بلا إذنه، أو سفرها بلا إذنه، أو إحرامها بالحج بغير إذنه، فهو نشوز، إلا للضرورة أو العذر، كأن يشرف البيت على انهدام، أو تخرج لبيت أبيها لزيارة أو عيادة، فيعد خروجها عذرا، وليس نشوزا. (10/ 97)
و في الدر المختار: (و) لها (النفقة) بعد المنع (و) لها (السفر والخروج من بيت زوجها للحاجة؛ و) لها (زيارة أهلها بلا إذنه ما لم تقبضه) أي المعجل، فلا تخرج إلا لحق لها أو عليها أو لزيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة اھ (3/ 145)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله فلا تخرج إلخ) جواب شرط مقدر: أي فإن قبضته فلا تخرج إلخ، وأفاد به تقييد كلام المتن فإن مقتضاه أنها إن قبضته ليس لها الخروج للحاجة وزيارة أهلها بلا إذنه مع أن لها الخروج وإن لم يأذن في المسائل التي ذكرها الشارح اھ (3/ 145) واللہ اعلم بالصواب