آبدوز میں زیرِ سمندر نماز کا طریقہ اور نمازِ جمعہ کا حکم کیا ہے؟ اگر آبدوز یا کشتی ساحل پر ہو ساحل تک پہنچ سکتا ہو تو پھر نماز جمعہ کا حکم کیا ہوگا؟
آبدوز جب زیر سمندر ہو تو اس میں جمعہ کے دن جمعہ کے بجائے ظہر پڑھنا لازم ہے اور اگر آبدوز کنارہ پر ہو اور وہ جگہ شہر یا اس کے مضافات میں ہو تو وہاں نمازِ جمعہ پڑھ سکتے ہیں ورنہ وہاں بھی نمازِ ظہر پڑھنا لازم ہوگا۔
اب اگر آبدوز سے نکل کر زمین پر نماز پڑھنا ممکن ہو تو سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ زمین پر اتر کر نماز ادا کی جائے اور اگر زمین پر اترنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں آبدوز کے اندر نماز پڑھنا بھی جائز ہے اور اس صورت میں نماز پڑھنے کا وہی طریقہ ہے جو زمین پر نماز پڑھنے کا ہے۔ ہاں! اگر آبدوز کی حرکت کی وجہ سے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا مشکل ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھنا بھی جائز ہوگا، جبکہ قبلہ رو ہونا بہر صورت لازم ہے۔
ففی الدر المختار: (والمربوطة في الشط كالشط) في الأصح (والمربوطة بلجة البحر إن كان الريح يحركها شديدا فكالسائرة وإلا فكالواقفة) ويلزم استقبال القبلة عند الافتتاح وكلما دارت اھ (2/ 101)
وفی الدر المختار: (قوله والمربوطة في الشط كالشط) فلا تجوز الصلاة فيها قاعدا اتفاقا. وظاهر ما في الهداية وغيرها الجواز قائما مطلقا أي استقرت على الأرض أو لا، وصرح في الإيضاح بمنعه في الثاني حيث أمكنه الخروج إلحاقا لها بالدابة نهر واختاره في المحيط والبدائع بحر، وعزاه في الإمداد أيضا إلى مجمع الروايات عن المصفى وجزم به في نور الإيضاح، وعلى هذا ينبغي أن لا تجوز الصلاة فيها سائرة مع إمكان الخروج إلى البر وهذه المسألة الناس عنها غافلون شرح المنية (قوله في الأصح) احتراز عن قول البعض بأنه لا فرق بينها وبين السائرة كما في النهر. (قوله وإلا فكالواقفة) أي إن لم تحركها الريح شديدا بل يسيرا فحكمها كالواقفة فلا تجوز الصلاة فيها قاعدا مع القدرة على القيام كما في الإمداد. اھ (2/ 101)
وفی الدر المختار: (ويشترط لصحتها) سبعة أشياء: الأول: (المصر (إلی قوله) (أو فناؤه) بكسر الفاء (وهو ما) حوله (اتصل به) أو لكما حرره ابن الكمال وغيره (لأجل مصالحه) كدفن الموتى وركض الخيل اھ (2/ 138) واللہ أعلم بالصواب!