اگر کسی کو نماز میں تشہد یاد نہ ہو تو وہ کون سی دعا پڑھے، کیونکہ اگر سجدہ سہو بھی کرتا ہے تو پھر اس کو تشہد پڑھنی پڑےگی، جیسے وہ بھول چکا ہے؟
اگر کسی شخص کو تشہد یاد تو ہو، مگر وقتی طور پر قعدہ میں تشہد یاد نہ آرہا ہو تو ایسی صورت میں تشہد کے بجائے کوئی اور دعا پڑھنے سے نماز صحیح ادا نہ ہوگی، بلکہ تشہد پڑھنا لازم ہوگا، پھر اگر سلام پھیرنے کے بعد یاد آجائے اور اس شخص نے نماز کے منافی کوئی عمل (مثلاً بات چیت وغیرہ) نہ کیا ہو تو تشہد پڑھ کر سہو کرے اور سجدہ سہو کرنے کے بعد تشہد، درود اور دعا پڑھنے کے بعد سلام پھیرکر نماز پوری کرے، لیکن اگر سلام پھیرنے کے بعد نماز کے منافی کوئی عمل پایا گیا ہو اور اس کے بعد تشہد یاد آجائے تو ایسی صورت میں اس نماز کا اعادہ لازم ہے۔
ففی الدر المختار: (ولها واجبات) لا تفسد بتركها وتعاد وجوبا في العمد والسهو إن لم يسجد له، وإن لم يعدها يكون فاسقا آثما وكذا كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها اھ(1/ 456)
وفیه أیضاً: حتى لو نسي سجدة من الأولى قضاها ولو بعد السلام قبل الكلام لكنه يتشهد ثم يسجد للسهو ثم يتشهد اھ (1/ 463)
وفی الفتاوى الهندية: (ومنها) التشهد فإذا تركه في القعدة الأولى أو الأخيرة وجب عليه سجود السهو وكذا إذا ترك بعضه،كذا في التبيين اھ (1/ 127)
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: يشترط موالاة التشهد، وكونه بالعربية، هو وسائر أذكار الصلاة المأثورة، فلا يجوز من قدر على العربية التشهد والصلاة على النبي صلّى الله عليه وسلم بغيرها، كما ذكرنا في التكبير والقراءة، فإن عجز مؤقتاً حتى يتعلم تشهد بلغته،كالأخرس ومن قدر على تعلم التشهد والصلاة على النبي صلّى الله عليه وسلم، لزمه ذلك، لأنه من فروض الأعيان، فلزمه كالقراءة(2/ 856) واللہ أعلم بالصواب!