احکام نماز

پہرے کے عذر کی وجہ سےنمازقضاءکرنا

فتوی نمبر :
37268
| تاریخ :
2019-03-27
عبادات / نماز / احکام نماز

پہرے کے عذر کی وجہ سےنمازقضاءکرنا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر ایک آدمی پہرہ پر مامور ہے اور اس دوران نماز کا وقت ہو جاتا ہے ، اب وہ کیا کرے؟ اگر نماز میں مشغول ہوجائے گا تو نقصان ہوجانے کا اندیشہ موجود ہے اور اگر یہی صورتِ حال فوج میں ہو کہ ایک سپاہی پہرہ پر ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ وہ ایک اہم جگہ پر ڈیوٹی پر مامور ہوتا ہے اور نماز میں مشغول ہو جانے پر ممکن ہے کہ نقصان ہو جائے ، براہِ کرم سوال کا جواب جلدی مطلوب ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

نماز کو قضاء کردینا گناہِ کبیرہ ہے، اس لۓ مذکور صورت میں چند افراد پہلے نماز پڑھ لیں، جب پہلے والے فارغ ہوجائیں، تو باقی ماندہ حضرات اپنی جماعت کروائیں یا بہ مجبوری کسی کو اپنا قائم مقام بنا کر انفرادی طور پر نماز پڑھا کریں، مذکور عذر کی بناء پر نماز کو ترک کرنا کسی طرح جائز نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

فی صحيح البخاري : عبد الله ، قال : سألت النبي صلى الله عليه و سلم : أي العمل أحب إلى الله ؟ قال : «الصلاة على وقتها»، قال : ثم أي؟ قال: «ثم بر الوالدين» قال: ثم أي؟ قال : «الجهاد في سبيل الله» اھ (1/ 112)۔
و فی الدر المختار : باب قضاء الفوائت : لم يقل المتروكات ظنا بالمسلم خيرا ، إذ التأخير بلا عذر كبيرة لا تزول بالقضاء بل بالتوبة أو الحج ، و من العذر العدو ، و خوف القابلة موت الولد لأنه - عليه الصلاة والسلام - أخرها يوم الخندق اھ (2/ 62)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله العدو) كما إذا خاف المسافر من اللصوص أو قطاع الطريق جاز له أن يؤخر الوقتية لأنه بعذر بحر عن الولوالجية . قلت : هذا حيث لم يمكنه فعلها أصلا ، أما لو كان راكبا فيصلي على الدابة و لو هاربا ، و كذا لو كان يمكنه صلاتها قاعدا أو إلى غير القبلة و كان بحيث لو قام أو استقبل يراه العدو يصلي بما قدر كما صرحوا به . (إلی قوله) (قوله يوم الخندق) و ذلك «أن المشركين شغلوا رسول الله - صلى الله عليه و سلم - عن أربع صلوات يوم الخندق حتى ذهب من الليل ما شاء الله تعالى فأمر بلالا فأذن ثم أقام فصلى الظهر ، ثم أقام فصلى العصر ، ثم أقام فصلى المغرب ، ثم أقام فصلى العشاء» ح عن فتح القدير . (2/ 62)۔
و فی حاشية ابن عابدين : تحت (قوله : فالأفضل إلخ) أي فيصلي الإمام بطائفة و يسلمون و يذهبون إلى جهة العدو ثم تأتي الطائفة الأخرى فيأمر رجلا ليصلي بهم . (2/ 187)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کامران صادق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 37268کی تصدیق کریں
0     776
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات