کیا ایسی قمیص میں نماز ہو جائےگی جس میں بدن کے خدوخال نظر آتے ہیں؟
مرد کا کسی ایسی قمیص جس میں سترِ عورت چھپا ہوا ہو اس کے علاوہ باقی جسم کے خدوخال نظر آتے ہوں، اس میں نماز پڑھنا اگرچہ جائز ہے، مگر اس طرح کا لباس پہننا مناسب نہیں۔
ففی الفتاوى الهندية: والمستحب أن يصلي الرجل في ثلاثة أثواب: قميص، وإزار، وعمامة. أما لو صلى في ثوب واحد متوشحا به تجوز صلاته من غير كراهة وإن صلى في إزار واحد يجوز ويكره اھ (1/ 59)
وفی أیضاً: والثوب الرقيق الذي يصف ما تحته لا تجوز الصلاة فيه كذا في التبيين (1/ 58) واللہ أعلم بالصواب!