احکام نماز

ایسی قمیص میں نماز پڑھنا جس میں بدن کے خدوخال نظر آتے ہیں

فتوی نمبر :
37375
| تاریخ :
2019-04-06
عبادات / نماز / احکام نماز

ایسی قمیص میں نماز پڑھنا جس میں بدن کے خدوخال نظر آتے ہیں

کیا ایسی قمیص میں نماز ہو جائےگی جس میں بدن کے خدوخال نظر آتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مرد کا کسی ایسی قمیص جس میں سترِ عورت چھپا ہوا ہو اس کے علاوہ باقی جسم کے خدوخال نظر آتے ہوں، اس میں نماز پڑھنا اگرچہ جائز ہے، مگر اس طرح کا لباس پہننا مناسب نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفتاوى الهندية: والمستحب أن يصلي الرجل في ثلاثة أثواب: قميص، وإزار، وعمامة. أما لو صلى في ثوب واحد متوشحا به تجوز صلاته من غير كراهة وإن صلى في إزار واحد يجوز ويكره اھ (1/ 59)
وفی أیضاً: والثوب الرقيق الذي يصف ما تحته لا تجوز الصلاة فيه كذا في التبيين (1/ 58) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 37375کی تصدیق کریں
0     512
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات