احکام نماز

والدین کی خدمت کی وجہ سے نماز ترک کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
38303
| تاریخ :
عبادات / نماز / احکام نماز

والدین کی خدمت کی وجہ سے نماز ترک کرنے کا حکم

میرے تین بھائی اور بہنیں ہیں، نیز میرے والد بھی حیات ہیں اور ان کا کاروبار ہے، جس میں وہ اور میرا ایک بھائی شریک ہے، میرے والد اپنی بیوی یعنی میری والدہ کو خرچہ نہیں دیتے، اور ساتھ بھی نہیں رہتے، جبکہ ایک بھائی شادی شدہ ہے اور وہ الگ رہتا ہے، جس کو ماں نے اس کی نافرمانی کی وجہ سے الگ کر دیا تھا۔
میر اسوال یہ ہے کہ اسلام میں ماں کی خدمت کی وجہ سے نماز ترک کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ جبکہ ایک حدیث ہے جس کا مفہوم ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر میری ماں مجھے عشاء کی نماز میں بھی بلاتی، تو میں نماز چھوڑ کر آجاتا۔
دوسرا یہ کہ میرے والد یعنی میری ماں کے شوہر موجود ہیں، لیکن وہ بیوی کے حقوق ادا نہیں کرتے، اس بارے میں اسلام میں کیا حکم ہے؟ اور تیسرا یہ کہ اگر میں ماں کی خدمت کی وجہ سے شادی نہ کروں تو اس حوالہ سے اسلام کیا کہتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔ والدین کی خدمت کی وجہ سے نماز بالکلیہ ترک کر دینا تو جائز نہیں، البتہ دورانِ نماز اگر ماں باپ وغیرہ کسی مصیبت میں پکاریں اور کوئی دوسر امد د کرنے والا موجود نہ ہو، تو فرض نماز توڑ کر بھی ان کی مدد کرنا نہ صرف یہ کہ شرعا جائز بلکہ ضروری ہے۔
۲۔ سائل نے یہ نہیں لکھا کہ والدین کے الگ الگ رہنے کی کیا وجہ ہے؟ بہر کیف جو بھی وجہ ہو، اگر سائل کے والد نے اسے اپنی مرضی سے الگ رکھا ہو، تو اُن کے ذمہ بیوی کے کھانے پینے ، لباس اور رہائش وغیرہ کا مناسب انتظام شرعا لازم ہے، اور سائل کے والد کا اس کی والدہ کے ساتھ بلا وجہ رہائش اختیار نہ کر ناشر عا درست نہیں، جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہو ر ہے ہیں، اور ان کے لیے اپنے اس طرز عمل سے بہرحال اجتناب ضروری ہے۔
۳۔ اگر شادی کی استطاعت ہو ، اور شادی کے بعد کے حقوق واجبہ بھی ادا کر سکتا ہو ، اور شادی نہ کرنے کی صورت میں گناہ میں ابتلاء کا اندیشہ ہو، تو ایسی صورت میں سائل کو چاہیے کہ والدہ کی خدمت کی وجہ سے شادی ہر گز ترک نہ کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في كنز العمال للمتقي الهندي: (45500 -) لو أدركت والدي أو أحدهما وقد افتتحت صلاة العشاء وقرأت الفاتحة فدعتني أمي : يا محمد لاجبتها (أبو الشيخ - عن طلق بن علي). (23/ 129)
و في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح: و "لا" يجب قطع الصلاة "بنداء أحد أبويه" من غير استغاثة لأن قطع الصلاة لا يجوز إلا لضرورة وقال الطحاوي هذا في الفرض وإن كان في نافلة إن علم أحد أبويه أنه في الصلاة وناداه لا بأس بأن لا يجيبه وإن لم يعلم يجيبه اھ (ص: 371)
كما في التنزيل العزيز: ﴿وعاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ (النساء: ۱۹)
و في سنن الترمذي: عن سليمان بن عمرو بن الأحوص قال: حدثني أبي، أنه شهد حجة الوداع مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فحمد الله، وأثنى عليه، وذكر، ووعظ، فذكر في الحديث قصة، فقال: «ألا واستوصوا بالنساء خيرا، فإنما هن عوان عندكم، ليس تملكون منهن شيئا غير ذلك، إلا أن يأتين بفاحشة مبينة، فإن فعلن فاهجروهن في المضاجع، واضربوهن ضربا غير مبرح، فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا، ألا إن لكم على نسائكم حقا، ولنسائكم عليكم حقا، فأما حقكم على نسائكم فلا يوطئن فرشكم من تكرهون، ولا يأذن في بيوتكم لمن تكرهون، ألا وحقهن عليكم أن تحسنوا إليهن في كسوتهن وطعامهن»: " هذا حديث حسن صحيح، ومعنى قوله: «عوان عندكم»، يعني: أسرى في أيديكم " (3/ 459)
و في المستدرك على الصحيحين للحاكم: أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه ببغداد، ثنا الحسن بن مكرم، ثنا يزيد بن هارون، أنبأ عبد الملك بن قدامة بن إبراهيم الجمحي، حدثني عمر بن شعيب، أخو عمرو بن شعيب بالشام، عن أبيه، عن جده، قال: كانت أم نبيه بنت الحجاج أم عبد الله بن عمرو امرأة تهدي لرسول الله صلى الله عليه وسلم وتلطفه، فأتاها رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما زائرا، فقال: «كيف أنت يا أم عبد الله؟» قالت: بخير بأبي أنت وأمي يا رسول الله قال: «وكيف عبد الله؟» قالت: بخير بأبي أنت وأمي، وعبد الله رجل قد تخلى من الدنيا. قال: «كيف» قالت: حرم النوم فلا ينام، ولا يفطر، وحرم اللحم فلا يطعم اللحم، ولا يؤدي إلى أهله حقهم. قال: «أين هو؟» قالت: خرج آنفا يوشك أن يرجع يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «فإذا جاءك فاحبسيه علي» فلم يلبث عبد الله أن جاء، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن لنفسك عليك حقا وإن لأهلك عليك حقا» اھ (4/ 67)
و في الدر المختار: هي لغة ما ينفقه الإنسان على عياله وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته كمفت وقاض ووصي زيلعي . (3/ 572)
كما في التنزيل العزيز: وَرَهْبَانِيَّةُ ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا [الحديد: 27]
و في كنز العمال للمتقي الهندي: (45596 -) عن أنس قال : كان رسول الله ص يأمر بالباءة ، وينهى عن التبتل نهيا شديدا ويقول تزوجوا الودود الولود ، فأني مكاثر بكم الانبياء يوم القيامة اھ (23/ 153) والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 38303کی تصدیق کریں
0     168
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات