احکام نماز

قضاء نمازوں کو ادا کرنے کاطریقہ

فتوی نمبر :
38469
| تاریخ :
2019-10-15
عبادات / نماز / احکام نماز

قضاء نمازوں کو ادا کرنے کاطریقہ

کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس شخص کے بارے میں جس کی عمر بائیس سال ہے اور اس نے اپنی زندگی میں بہت سی نمازیں چھوڑی ہیں اور اب وہ ان کو قضا کرنا چاہتاہے تو اس کا کیا طریقہ ہے؟ برائے مہربانی اس کے بارے میں رہنمائی کریں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

شخصِ مذکور جب سے بالغ ہوا ہے اس کے بعد اب تک جتنی نمازیں وتر سمیت قضاء ہوگئی ہیں، ان کی قضاء پڑھناشخصِ مذکور پر لازم ہے، لہذا شخصِ مذکورکو چاہئیے کہ پہلے یہ دیکھ لے کہ اس کے ذمہ کتنی نمازیں قضاء لازم ہیں، اگر قضاء نمازوں کی تعداد یقینی طور پر معلوم نہ ہو تو غالب اندازے سے تعداد متعین کرے، اس کے بعد جتنا جلدممکن ہو، ان نمازوں کی قضاء کرے، البتہ اگر کسی وجہ سے ان نمازوں کی قضاء جلد ممکن نہ ہو تو آسانی کےلئے یہ طریقہ کار اختیار کیا جاسکتا ہے، کہ ہر وقتی فرض نماز کے ساتھ ایک یا دو قضاء نمازیں بھی پڑھ لیا کرے، اور نیت اس طرح کرے مثلاً کہ میں قضاء شدہ فجر کی نمازوں میں سے پہلی نماز قضاء پڑھ رہا ہوں، اسی طرح ظہر،عصر، مغرب کی بھی نیت کرے، اور ہر مرتبہ پہلی یا آخری نماز کی قضاء کی نیت کے ساتھ قضاء نمازوں کی مکمل ادائیگی تک نمازیں پڑھتا رہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين: (وقضاء الفرض والواجب والسنة فرض وواجب وسنة) لف ونشر مرتب، وجميع أوقات العمر وقت للقضاء إلا الثلاثة المنهية
وفی الرد:قوله والسنة يوهم العموم كالفرض والواجب وليس كذلك، فلو قال وما يقضى من السنة لرفع هذا الوهم رملي.قلت: وأورد عليه الوتر، فإنه عندهم سنة، وقضاؤه واجب في ظاهر الرواية، لكن يجاب بأن كلامه مبني على قول الإمام صاحب المذهب.(قوله والواجب) كالمنذورة والمحلوف عليها وقضاء النفل الذي أفسده ط (قوله وقت للقضاء) أي لصحته فيها وإن كان القضاء على الفور إلا لعذر ط وسيأتي. (2/ 66)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 38469کی تصدیق کریں
0     567
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات