کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے کچھ ساتھی مل کر ہماری ٹیم ایک ویب سائٹ بنانا چاہ رہی ہے، جس کے ذریعہ لوگوں کو معلومات بھی فراہم ہو اور ایک دوسرے کی فتوی کی روشنی میں جائز طرح سے مدد بھی ہو؟ جس میں بزنس کے متعلق اہم اور نایاب کتابیں رکھی جائیں ؟ جس کو پڑھنے کے لئے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے ہماری لائبریری کی ممبر شپ فیس ادا کر کے لینی پڑے؟ فیس ادا کرنے کے بعد اس کو آئی ڈی پاسورڈ مل جائے گا؟ اب وہ لاگ ان ہو کر ان کتابوں سے استفادہ کر سکے گا؟ اس سائٹ پر ہمارے کچھ لاکھ روپے بھی شروع میں خرچ آجائیں گے اور مزید بعد میں بھی خرچ لگتا رہے گا؟ ممبرز بڑھانے کے لئے اور لوگوں کی ایک دوسرے کی مدد کے لئے اس فیس سے ممبرز کی مدد بھی کی جائے گی ، وہ اس طرح کہ ممبرز جس بھی دوست کو جوائن کر واکر نیا ممبر بنوائے گا ،اس کو کمپنی بونس مدد دے گی؟ ہر ممبر زیادہ سے زیادہ پانچ دوستوں کو ممبر بنوانے کے لئے جوائن کروا سکے گا؟ چاہے پانچ سے کم جوائن کر وائے، چاہے ایک بھی جوائن نہ کروائے ؟ زید نے بکر کو جوائن کروایا تو کمپنی زید کو مدد بونس دے گی لیکن بکر جن دوستوں کو جوائن کروائے گا اس کا بونس صرف بکر کو ملے گا اور زید کو کچھ بھی نہ ملے گا؟ کیا اس طرح ممبرز کو مدد بونس دینا جائز ہے ؟ ہم نے آپس میں مشورہ کر کے مکمل ترتیب دے دی ہے ؟ اب پہلے فتوی چاہیئے کہ اگر اس طرح جائز ہے تو ہم کام شروع کر دیں ورنہ چھوڑ دیں گے۔
سوال میں ویب سائٹ بنانے اور اس کی ممبر شپ کا جو طریقہ کار درج ہے، وہ اگر چہ بظاہر درست معلوم ہوتا ہے ، مگر سائل نے اس کی جو ترتیب بنائی ہے، اگر اس کی مزید وضاحت لکھ کر براہ راست دکھائی جائے، تو اس سلسلہ میں کوئی حتمی رائے قائم کی جا سکتی ہے۔
كما في تكملة فتح الملھم: واما التلفزيون والفديون فلاشك في حرمة استعمالها بالنظر إلى ما يشتملان عليه من المنكرات الكثيرة من الخلاعة والمجون والكشف عن النساء المتبرجات أو العاريات وما إلى ذلك من اسباب الفسوق اھ (۴/ ۱۶۴) واللہ اعلم بالصواب
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0