احکام نماز

حضر اور سفر کی قضاء نمازیں پڑھنے کا طریقہ

فتوی نمبر :
39082
| تاریخ :
2020-01-14
عبادات / نماز / احکام نماز

حضر اور سفر کی قضاء نمازیں پڑھنے کا طریقہ

۱۔ السلام علیکم! کیا قضاء نماز میں پوری رکعت پڑھ سکتے ہیں؟
۲۔ دوسرا ہماری مسجد میں ایک امام صاحب جماعت کرواتے ہیں، شاگرد کمرے سے جماعت کے لیے نہیں آتا اور جب شاگرد جماعت کرواتا ہے امام صاحب نہیں آتے، بہت پریشانی ہے کیا کریں ہم ایسا سوچنے پر گناہ گار تو نہیں ہوں گے؟ راہ نمائی فرما دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔ سائل سے اگر کچھ فرض نمازیں قضاء ہوئی ہوں تو حضر کی چار رکعت والی قضاء نمازیں چار رکعت مکمل اور سفر کی چار رکعت والی قضاء نمازیں دو رکعت قضاء بجا لانا لازم ہے، البتہ سنتوں کی قضاء نہیں ہے۔
۲۔ سائل نے یہ نہیں لکھا کہ مذکو رامام صاحب اور اس کے شاگرد کیوں ایسا کرتے ہیں، تاہم ان کی آپس کی رنجش کی وجہ سے سائل کی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑےگا، البتہ ان کو بھی اپنے اس طرزِ عمل سے احتراز کرنا چاہیے ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الهدایة: "ومن فاتته صلاة في السفر قضاها في الحضر ركعتين ومن فاتته في الحضر قضاها في السفر أربعا " لأن القضاء بحسب الأداء والمعتبر في ذلك آخرالوقت لأنه المعتبر في السببية عند عدم الأداء في الوقت"اھ (۱/ ۱۶۷)
وفی مشكاة المصابيح: وعن أم الدرداء قالت: دخل علي أبو الدرداء وهو مغضب فقلت: ما أغضبك؟ قال: والله ما أعرف من أمر أمة محمد صلى الله عليه وسلم شيئا إلا أنهم يصلون جميعا رواه البخاري اھ (1/ 338) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
رفیق محمد خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 39082کی تصدیق کریں
0     557
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات