زیر ناف کے بالوں سے متعلق شریعت کا کیاحکم ہے؟ اور اس کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
زیر ناف بالوں کے کاٹنے کی حد یہ ہے کہ اکڑوں بیٹھنے کی حالت میں ناف کے نیچے جو پہلا بل پڑتا ہے وہاں سے لیکر عضو تناسل، خصیتین ، دبر اور اس کے ارد گرد اور رانوں کے وہ بال جن کا گندگی سے بھرنے کا اندیشہ ہو ان سب کو ہفتہ میں ایک مرتبہ ریزر یا کسی بھی تیز دھاری والے آلہ کے ذریعہ صاف کرنا مستحب ہے اور چالیس دن تک چھوڑے رکھنا مکروہ ہے، لہذا چالیس دن تک چھوڑے رکھنے سے احتراز لازم ہے۔
في الدر المختار: (و) يستحب (حلق عانته وتنظيف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع مرة) والأفضل يوم الجمعة وجاز في كل خمسة عشرة وكره تركه وراء الأربعين اھ (6/ 406)
وفي حاشية ابن عابدين: والعانة الشعر القريب من فرج الرجل والمرأة ومثلها شعر الدبر بل هو أولى بالإزالة لئلا يتعلق به شيء من الخارج عند الاستنجاء بالحجر (2/ 481)
وفي البحر الرائق: والاستحداد حلق العانة سمي استحدادا لاستعمال الحديدة، وهي الموسى، وهو سنة والمراد بالعانة الشعر فوق ذكر الرجل وحواليه إلى السرة (1/ 50)