محترم جناب مفتی صاحب
(۱) اگر کسی شخص سے ایک لاکھ روپے اس شرط کے ساتھ لوں کہ کاروبار میں لگا کر منا فع کا دو سے ڈھائی فیصد دیتا رہوں گا ، جس سے ماہانہ اس شخص کو دو ہزار سے ڈھائی ہزار تک کا نفع حاصل ہو تو آیا یہ صورت ہم دونوں کے لئے شرعاً جائز ہے کہ نہیں؟
۲۔ نیو یارک اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کرنا چاہتا ہوں اسٹاک ٹریڈز یا کرنسی کا. کیا یہ حلال ہے ؟ بعضوں کا کہنا ہے کہ جامعہ اشرفیہ لاہور سے جاری شدہ فتوی کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کے کاروبار میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
۔ اگر یہ کاروبار کسی قسم کی شرط فاسد یا دیگر ناجائز امور وشرائط پر پر مشتمل نہ ہو تو تقسیم نفع یا مذکور شرط کے ساتھ یہ کاروبار شرعاً بھی جائز اور درست ہے ، تاہم اس میں کسی ایک مقدار (مثلاً دو فیصد یا اڑھائی فیصد) کا طے کرنا لازم ہے ۔
اسٹاک ایکسچینج سے یا کسی بینک سے شیئرز کی خرید و فروخت ، ملازمت وغیرہ درج ذیل چار شرائط کے ساتھ جائز اور اس سے حاصل ہونے والا منافع بھی حلال ہے ۔
(1) اصل کاروبار حلال ہو، شراب وغیرہ بنانے کی فیکٹری نہ ہو۔ (۲) اس کمپنی کے کچھ منجمد اثاثے وجود میں آچکے ہوں رقم صرف نقد کی شکل میں نہ ہو۔ (۳) اگر کمپنی سودی لین دین کرتی ہے تو اس کی سالانہ میٹنگ میں سود کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔ (۴) جب منافع تقسیم ہوں تو اس وقت جتنا نفع کا حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہو، اس کو بلانیت ثواب صدقہ کر دے۔
یہ تب ہے جب شیئرز خریدنے کا مقصد کسی کمپنی کا حصہ دار بننا اور گھر بیٹھ کر اس کا سالانہ نفع حاصل کرنا ہو، بعض لوگ اس مذکورہ غرض سے نہیں خرید تے، بلکہ ان کا مقصد کیپیٹل گین ہوتا ہے یعنی وہ اس کا اندازہ کرتے ہیں کہ کسی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ ہونے کا امکان ہے، چنا نچہ اس کمپنی کے شیئرز خرید لیتے ہیں اور چند روز بعد جب قیمت بڑھ جاتی ہے تو فروخت کر دیتے ہیں اور نفع حاصل کرتے ہیں اس کی بھی شرعاً مذکورہ شرائط کے ساتھ گنجائش ہے، لیکن اس کو درست کہنے کی دشواری سٹہ بازی کے وقت پیش آتی ہے جو اسٹاک ایکسچینج کا بہت بڑا اور اہم حصہ ہے جس میں بسا اوقات شیئر ز کا لین دین بالکل مقصود نہیں ہوتا بلکہ آخر میں جا کر آپس کا ڈیفرنس برابر کر لیا جاتا ہے اور شیئرز پر نہ تو قبضہ ہوتا ہے اور نہ ہی قبضہ پیش نظر ہوتا ہے لہذا جہاں یہ صورت ہو کہ قبضہ بالکل نہ ہو اور نہ ہی لینا دینا مقصود ہو، بلکہ اصل مقصد سٹہ بازی کر کے ڈیفرنس برابر کر لینا ہو تو یہ صورت بالکل حرام ہے اور شریعت میں اس کی اجازت نہیں اس طرح بعض اوقات شیئرز پر قبضہ اور ڈیلیوری سے پہلے ہی آگے فروخت کر دیے جاتے ہیں اس کی بھی شریعت میں اجازت نہیں، کیونکہ شیئرز پر قبضہ ضروری ہے اور شیئرز پر قبضہ یہ ہے کہ شیئرز ہولڈر اس کے نفع و نقصان کا حقدار بن جائے جس کو رسک میں آنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔(مأخوذ از مقہی مقالات)
ففي الهداية شرح البداية: قال ومن شرطها أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة من الربح اھ (3/ 202)
قال اللہ تعالى : {وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ } [المائدة: 2]
و في فتح القدير للكمال ابن الهمام: وهو ما في حديث حكيم من قوله - صلى الله عليه وسلم - «لا تبيعن شيئا حتى تقبضه» اھ (6/ 513)
وفيه ايضاً. (فصل) ومن اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه لأنه - عليه الصلاة والسلام - نهى عن بيع ما لم يقبض اھ (6/ 510)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0