برائےمہربانی میری رہنمائی فرمائیں کہ نماز کیسے اداکروں،میں نےکہیں پڑھا ہے کہ رکوع اور سجود میں ایک ہی مرتبہ سبحان ربی الاعلیٰ اور سبحان ربی العظیم کہنا کافی ہے،اور تیسری چوتھی رکعات میں سورۃ فاتحہ اور کسی سورت کے بجائے سبحان اللہ تین مرتبہ کہنا کافی ہے؟برائے کرم میری رہنمائےکریں مکمل نماز کے بارے، نیت سے لیکر سلام تک، اللہ جزائے خیر دے، مجھ سے کئی عرصے کی نماز چھوٹی ہے۔
رکوع وسجدہ کی تسبیحات سنت ہیں،اور ان کی ادنیٰ مقدار تین بار کہنا ہے،البتہ ایک مرتبہ کی عادت بناکر پڑھنا مکروہ ہے،جبکہ فرض کی پہلی دورکعتوں اور وتر اور نوافل کی تمام رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی سورۃ پڑھنا واجب ہے،فرض کی تیسری چوتھی رکعات میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھنا مستحب ہے،چنانچہ فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں دانسۃ سورۃ فاتحہ نہ پڑھنے کی عادت بنانا مکروہ ہے،جس سے احتراز چاہیئے،تاہم سائل کو مزید معلومات درکار ہوں تو وہ حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب کی کتاب “نماز سنت کے مطابق اداکریں ” کا مطالعہ کرے ان شاء اللہ نماز کے تمام مسائل معلوم ہوجائنگے۔
فی مشکاۃ المصابیح:عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ،قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم “اذارکع احدکم فقال فی رکوعہ ،سبحان ربی العظیم،ثلاث مرات فقدتم رکوعہ،وذٰالک ادناہ،واذا سجد فقال فی سجودہ :سبحان ربی الاعلیٰ،ثلاث مرات،فقد تم سجودہ،وذٰالک ادناہ.اھـ (1/516)۔
فی الھدایۃ:ثم تسبیحات الرکوع والسجود سنۃ؛لان النص تناولھادون تسبیحاتھما، فلایزاد علیٰ النص.اھـ (1/206)۔
وایضًا فیہا:القرءۃ فی الفرض واجبۃ فی الرکعتین،.....وھو مخیرفی الاخریین،معناہ؛ان شاء سکت،وان شاءقرأ، وان شاء سبح؛......الاان الافضل ان یقرأ....والقراءۃ واجبۃ فی جمیع رکعات النفل ،وفی جمیع رکعات الوتر. اھ(1/298)۔
وفی الھندیۃ:ویقول فی رکوعہ سبحان ربی العظیم ثلاثاوذالک ادناہ فلوترک التسبیح اصلًا أو أتی بہ مرۃً یجوزویکرہ. اھـ (1/74)۔ واللہ اعلم