میرے والد صاحب کو بھولنے کا مرض لاحق ہے، حالت ایسی ہے کہ اپنے بیٹے کو بھی صحیح طریقے سے پہچان نہیں پاتے، بغیر مدد کے قمیص نہیں پہن پاتے، ایسے میں نماز ادا کرنے کا طریقہ بھی بھول گئے ہیں، بار بار بتانے کے باجود یاد نہیں کر پاتے اور سخت پریشان اور شرمندگی کا شکار رہتے ہے، ایسے مریضوں کی نماز کے بارے میں کیا حکم ہے؟
اگر ضعف اور بڑھاپے کی وجہ سے سائلہ کے والد کی یاداشت ختم ہو چکی ہو، جس کی وجہ سے بار بار یاد دہانی کرانے کے باوجود اُسے نماز کا طریقہ یاد نہ آرہا ہو ، تو ایسی صورت میں اس کے ذمہ نمازوں کی ادائیگی لازم نہ ہوگی، اس لیے ایسی حالت میں اُسے نماز کے لیے مجبور کر کے پریشان نہیں کرنا چاہیئے۔
ففی الدر المختار: (ولو اشتبه على مريض أعداد الركعات والسجدات لنعاس يلحقه لا يلزمه الأداء) ولو أداها بتلقين غيره ينبغي أن يجزيه كذا في القنية اھ (2/ 100) واللہ أعلم بالصواب!