نماز میں تکبیر کے وقت ہاتھوں کی کیا صورت ہو نی چاہئے ،ہم نے تو پڑھا تھا کہ کانوں کی کی لو کے برابر آپ کا انگو ٹھا، ہونا چاہئے ،آج کہیں پڑھا کہ کند ھوں کے برابر ہونی چا ہئے اس حدیث کے مطابق المستدرک للحاکم حدیث:۸۵۶) وسند حسن امام حاکم نے المسدرک (۲۳۴؍۱) میں اور حافظ ذھبی نے اس سے صحیح کپاں ہے وسنن ابو داود حدیث(۷۵۳)وجامع ترمذی حدیث(۲۴۰)وسند حسن رسول اللہ ﷺ (؟)دونون ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے صحیح بخاری حدیث :۷۳۵)وسند مسلم حدیث: ۳۹۰)نبی کریمﷺ کبھی کبھی ہاتھ کانوں تک بلند فر ماتیں، صحیح مسلم حدیث:ُوضاحت:ہاتھوں سے کانون کو چھونے کی کوئی دلیل نہیں ہے لہٰذا ان کو چھونا بدعت ہے ،وضاحت کر دے یہ ٹھیک ہے یا ضعیف؟
تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ کانوں کے لو تک اٹھانے اور کندھوں تک اٹھانے میں دونوں طرح کی روایات ملتی ہیں، لیکن دونوں حدیثوں میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے کانو ں کے لوؤں کو چھوئیں،اس صورت میں دونوں حدیثوں پر عمل ہو جائے گا، البتہ ہاتھو ں سے کانوں کو چھونے کو بدعت کہنا درست نہیں۔