جناب مفتی صاحب! کچھ جائےنماز ایسے ہوتے ہیں جن پر بیت اللہ شریف یا گنبد حضريٰ کي تصاویر ہوتی ہیں، جب پاؤں جائےِ نماز پررکھا جاتا ہے تو یہ مبارک تصاویر پاؤں کے بلکل برابرآجاتی ہیں، کیا ایسا کرنے سے بندہ گناہ گار ہوتا ہے یا ایسے جائے نماز پر نماز پڑھی جاسکتی ہے؟
2۔نماز پڑھانے کےبعداکثر آئمہ کرام اپنا چہرہ نمازیوں کی طرف پھیر لیتے ہیں، اس وقت ان کی پشت مذکورہ تصاویر پرآجاتی ہے کیا ایسا کرناجائز ہے؟
3 اگر کوئی نمازی امام صاحب کے مصلے/جائےِ نماز پر سے گُزر جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
ایسے جائے نماز پرنماز پڑھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، اسی طرح اگر ائمہ کرام کا اپنا چہرہ نمازیوں کی طرف پھیرتے وقت ان کی پُشت ان مقدس تصاویر کی طرف آجائے تو شرعاً اس میں بھی کوئی قباحت نہیں، تاہم بیت اللہ اور مسجد نبوی کے شبیہ پر پاؤں رکھنا یا اس کے اُوپر بیٹھ کر اس کی بے ادبی کر نا مناسب نہیں اس لیے اس سے احتراز کرنا چاہیے، جبکہ امام صاحب کے مصلے پر سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں۔
كما في منية المصلي: وأما صورة غير ذي روح فلا خلاف في عدم كراهة الصلاة عليها أو إليها اهـ ( ج ١ ص / ٣٥٩).
وفي الدر المختار: (أو لغير ذي روح لا يكره لأنها لا تعبــد الهـ ( ج ١ ص / ٦٤٩).
وفي تبيين الحقائق: قال - رحمه الله - أو لغير ذي روح أي أو كانت الصورة غير ذي الروح مثل أن تكون صورة النخل وغيرها من الأشجار؛ لأنها لا تعبد عادة اهـ ( ج ١ ص / ٤١٥).
وفي الفقه الإسلامي وأدلته: ولاصورة شيء غير ذي روح من النبات ونحوه؛ لأن كل هذه المذكورات لا تعبد وخبر مسلم عن جبريل إنا لا ندخل بيتاً فيه كلب أو صورة مخصوص بغير المهانة. اهـ ( ج ١ ص / ٧٨٤).