فرض، سنت اور مستحب میں فرق؟ ۲۔؟ ۳۔ کیا ہم والدین کی بات کو اس عمل پر ترجیح دے سکتے جو فرض نہیں؟ مثلاً میرے اور میرے والد صاحب کے درمیان معاہدہ ہوا ہے کہ میں رفع الیدین ہر مسجد میں کر سکتا ہوں سوائے اپنی مسجد (یعنی کہ جس میں ہم سب نماز ادا کرتے ہیں) اور کبھی گھر میں بھی پڑھنی ہو تو رفع الیدین کے ساتھ پڑھ سکتا ہوں، کیا میرے لیے ان کی بات ماننا جائز ہو سکتا ہے؟ راہ نمائی فرمائیں۔
تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ رفع یدین نہ کرنے سے متعلق کثیر تعداد میں احادیث موجود ہیں، اور علمائے احناف نے اوفق بالقرآن اور زیادہ صحت نیز نبی کریمﷺ کے آخری عمر کے عمل ہونے کی وجہ سے اس کو راجح اور افضل قرار دیا ہے، تفصیل اس کی یہ ہے کہ حضورﷺ ابتداءمیں شروع نماز کے علاوہ ہر اٹھتے بیٹھتے حتی کہ سجدہ میں جانے اور اُٹھنے کے بعد بھی رفع یدین فرماتے تھے، پھر جیسے جیسے نماز میں سکون کا حکم آتا گیا، تو تدریجاً رفع یدین بھی ترک فرما دیا، یہاں تک کہ اخیر عمر میں آپﷺ سے ایسی نمازیں بھی ثابت ہیں، جن میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ کہیں رفع یدین نہیں کیا، چنانچہ صحیح مسلم کی روایات میں آتا ہے کہ آپﷺ نے رفع یدین کو سختی سے منع فرمایا، اس لیے احناف کے نزدیک نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین نہ کرنا ہی مسنون اور افضل ہے، لہٰذا اگر سائل شافعی مسلک سے تعلق رکھتا ہو تو اس کے لیے ہر مسجد میں اپنے مسلک کے مطابق عمل کرنا جائز اور درست ہے، تاہم سائل اگر حنفی مسلک سے تعلق رکھتا ہو، مگر کسی سے سنی سنائی باتوں کی وجہ سے متأثر ہو کر رفع یدین کرتا ہو تو اس کو ترک کر کے اپنے حنفی مسلک کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔
جبکہ فرض وہ عمل ہےجس کے ثبوت میں شک وشبہ نہ ہو، بلا عذر اس کا تارک فاسق اور عذاب کا مستحق ہے، اور اس کا منکر کا فر ہے۔
سنت وہ عمل ہے جس کو نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے ہمیشہ کیا ہو یا کرنے کی تاکید کی ہو بلاعذر کبھی ترک نہ کیا ہو، بلاعذر اس کا تارک گناہ گار ہے، اور ترک کا عادی سخت گناہگار ہے۔
مستحب وہ کام ہے جس کو نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نے کبھی کیا ہو اور سلف نے پسند فرمایا ہو۔
ففی صحيح مسلم: عن جابر بن سمرة، قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «ما لي أراكم رافعي أيديكم كأنها أذناب خيل شمس؟ اسكنوا في الصلاة» اھ (1/ 322)
وفی سنن النسائي: عن عبد الله أنه قال: «ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فصلى فلم يرفع يديه إلا مرة واحدة» اھ (2/ 195)
وفی الدر المختار: (لا) يفرض (على صبي) وبالغ له أبوان أو أحدهما؛ لأن طاعتهما فرض عين اھ (4/ 124)
واللہ أعلم بالصواب!