احکام نماز

قضاء نمازوں کے لوٹانے کا طریقہ

فتوی نمبر :
42573
| تاریخ :
عبادات / نماز / احکام نماز

قضاء نمازوں کے لوٹانے کا طریقہ

میں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی پابندی کی عادت پر نماز نہیں پڑھی،پھر اب نماز پابندی سے شروع کردی ہے اور اپنی پرانی قضاء نمازیں پوری کرنے کے لئے ہر نماز کے ساتھ ایک نماز قضاء کی نیت سے پڑھتا ہوں(صرف فرض) کیا یہ طریقہ ٹھیک ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل محتاط اندازے کے مطابق حساب لگائے کہ بالغ ہونے کے بعد سے اب تک اس کی کتنی نمازیں قضا ہوئی ہیں،پھر ان سب کی قضا کرے،جس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ کم از کم ہر فرض نماز کے ساتھ اسی وقت کی ایک نماز پڑھ لیا کرے،اس طرح ایک دن میں پانچ نمازیں ادا ہوجائیگی،البتہ قضا نماز پڑھنے میں نیت کا خیال رکھے کہ مثلاً میں قضا شدہ فجر کی نمازوں میں سے پہلی فجر کی قضا پڑھ رہا ہوں،ہر مرتبہ کی قضا میں اس طرح نیت کرے،جبکہ عشاء کی نماز کے ساتھ وتر کی قضا بھی لازم ہے،البتہ سنتوں کی قضا نہیں ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الفتاوى الهندية: في العتابية عن أبي نصر - رحمه الله - فيمن يقضي صلوات عمره من غير أن فاته شيء يريد الاحتياط فإن كان لأجل النقصان والكراهة فحسن وإن لم يكن لذلك لا يفعل، والصحيح أنه يجوز إلا بعد صلاة الفجر والعصر وقد فعل ذلك كثير من السلف لشبهة الفساد، كذا في المضمرات (1/124 )۔
وفیہا أیضاً: وفي الفتاوى رجل يقضي الفوائت فإنه يقضي الوتر(1/ 125)۔
وفی خلاصۃ الفتاوی: رجل یقضی صلوات عمرہ مع انہ لم یفتہ شیئ منھا احتیاطا، قال بعضھم یکرہ وقال بعضھم لایکرہ لانہ اخذ بالاحتیاط لکنہ لایقضی بعد صلوۃ الفجر ولا بعد صلوۃ العضر(2/80)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 42573کی تصدیق کریں
0     511
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات