السلام علیکم! جناب مفتی صاحب! مجھے ہفتہ میں ایک دن صبح جلدی شہر سے باہر نکلنا ہوتاہے، تاکہ ٹائم پر پہنچ سکوں، میں فجر کی اذان سے کچھ ۱۵، ۲۰ منٹ پہلے گھر سے نکلاہوں، سوال یہ ہے کیا میں فجر پڑھ کے نکل سکتاہوں؟ کیونکہ میں کسی کے سا تھ ہوتاہوں کہیں رک نہیں سکتے، راستے میں کوئی رکنے کی جگہ بھی نہیں ہے، مہربانی فرماکے جواب عنایت فرمائیں شکریہ!
سائل کو ا گر راستے میں نماز پڑھنے کا موقع نہ ملتاہو، تو فجر کا وقت داخل ہونے کے بعد گھر ہی میں فجر پڑھ کر روانہ ہونا بھی سائل کیلئے جائز ا و ر درست ہے، سائل کو ایسی صورت میں یہی کرنا چاہیے۔
کما فی الفقه الحنفی فقوله تعالی: ان الصلوۃ کانت علی المؤمنین کتابًا موقوتًا (النساء ۱۰۳) ای فرض مؤقتًا اھ (۱/ ۱۳۱)
وفیه ایضًا: وسبب وجوب الصلٰوة الاصلی خطاب اللہ تعالٰی الازلی، الٰی قوله جعل لنا سبحانه وتعالٰی اسبابًا مجازیة ظاهرة تیسیرًا علینا وهي الاوقات بدلیل تجدد الوجوب بتجددها، والسبب من کل وقت جزء یتصل به الاداء اھ (۱/ ۱۳۲)
وفی الدر المختار: سببها تراد النعم ثم الخطاب ثم الوقت ای الجزء الاول ان اتصل به الاداء والا فما ای جزء من الوقت یتصل به الادا۴، والا یتصل الاداء بجزء اھ (۱/ ۳۵۶) واللہ اعلم بالصواب!