اسلام علیکم, مفتی صاحب میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا شادی کے بعد بیوی کی نمازوں کا بروز آخرت شوہر سے سوال کیا جائے گا کہ تم نے اپنی بیوی کو نماز کیلئے کیوں نہیں کہا ؟ اور کیا بیوی سے بھی پوچھ گچھ ہو گی کہ ہم نے اپنے شوہر کو نماز کیلئے کیوں نہیں کہا؟ میری کوشش ہوتی ہے کہ پانچ وقت کی نماز ادا کروں مگر اگر کبھی نہ پڑھوں تو شوہر مجھے بہت بے عزت کرتے ہیں اور مجھے میرے گھر والوں کا طعنہ دیتے ہیں کہ وہ یہ سیکھا کر بھیجتے جبکہ میرے ماں باپ اور بھائی بہن سب نمازی ہیں اور خود نماز نہیں پڑھتے بلکل بھی ۔ کبھی جب جاگے ہوں تو بس فجر پڑھ لیتے ہیں ۔
میاں بیوی میں سے کسی ایک کے نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے اگرچہ بروزِ قیامت دوسرے سے اس کی پوچھ گچھ نہ ہوگی، بلکہ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہوگا، تاہم اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک نماز کی پابندی نہ کرے تو دوسرے کو چاہیے کہ حکمت وبصیرت کے ساتھ اُسے نماز کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتا رہے، لیکن شوہر کا خود نماز نہ پڑھنا اور بیوی کو نماز میں سستی پر طعن وتشنیع کا نشانہ بنانا دعوت کے اُصولوں کے منافی عمل ہے، جس سے شوہر کو اجتناب کرنا چاہیے، بلکہ شوہر کو چاہیے کہ بذاتِ خود نماز کی پابندی کیا کرے، پھر اگر بیوی بچوں کو نماز وغیرہ کے احکامات میں سمجھانے کی ضرورت پڑے تو نرمی سے سمجھائے تاکہ بات کا مثبت اثر پڑے، جبکہ بیوی کا نماز میں سستی کرنا ور کبھی کبھار نماز بالکل چھوڑ دینا بھی غلط ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا﴾ (النساء: 103)
وفی صحيح مسلم: جابر بن عبد الله يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «بين الرجل وبين الشرك والكفر ترك الصلاة» اھ (1/ 88)
وفی الدر المختار: (ويعزر المولى عبده والزوج زوجته) (إلی قوله) (لا على ترك الصلاة) لأن المنفعة لا تعود عليه بل إليها اھ (4/ 77) واللہ أعلم بالصواب!