مفتی صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
میں اپنے زمینوں سے جو پیداوار / فصل حاصل کر رہا ہوں ،اس کو میں کتنے عرصہ تک محفوظ (سٹاک) کر سکتا ہوں ؟ کیا یہ ذخیرہ اندوزی کے زمرے میں آتا ہے ؟
سائل کا اپنی زمین سے حاصل شدہ پیداوار کو اپنے ذاتی استعمال کے لیے اسٹاک کر کے رکھنا تو بلا شبہ جائز ہے ، البتہ اگر سائل اپنی زمین سے حاصل شدہ پیداوار کو اس لیے اسٹاک کرے کہ مارکیٹ میں قیمت بڑھنے کے بعد اسے مہنگے داموں فروخت کیا جا سکے ، تو ایسا کرنا اگر چہ ذخیرہ اندوزی میں داخل نہیں ، اور سائل کو اس کی وجہ سے ذخیرہ اندوزی کا گناہ نہ ہوگا، تاہم اس کی وجہ سے عام مسلمانوں کو ضرر پہنچ رہا ہو، تو مسلمانوں کو ضرر پہنچانے کا گناہ سائل کو ملے گا۔
ففي الدر المختار: (ولا يكون محتكرا بحبس غلة أرضه) بلا خلاف اھ (6/ 399)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله ولا يكون محتكرا إلخ) لأنه خالص حقه لم يتعلق به حق العامة، ألا ترى أن له أن لا يزرع فكذا له أن لا يبيع هداية قال ط والظاهر أن المراد أنه لا يأثم إثم المحتكر وإن أثم بانتظار الغلاء أو القحط لنية السوء للمسلمين اهـ (6/ 399) والله اعلم بالصواب
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0