لڑکیوں کے لئے دو مینڈیاں گندھوانا کیسا ہے ؟لوگ کہتے ہیں کہ یہ یہودیوں کا شعار ہے حالانکہ اب ان کا رواج عام ہو چکا ہے۔
لڑکیوں کے لیے سر کے بالوں میں دو یا دو سے زائد مینڈیاں بنانے میں شرعا کوئی قباحت نہیں۔
كما في صحيح مسلم: عن أم سلمة، قالت: قلت يا رسول الله إني امرأة أشد ضفر رأسي فأنقضه لغسل الجنابة؟ قال: «لا. إنما يكفيك أن تحثي على رأسك ثلاث حثيات ثم تفيضين عليك الماء فتطهرين». (1/ 259)
و في الفتاوى الهندية: ولا بأس للمرأة أن تجعل في قرونها وذوائبها شيئا من الوبر كذا في فتاوى قاضي خان اھ (5/ 358) والله اعلم بالصواب