السلام علیکم!
امید کرتا ہوں آپ خیر و عافیت سے ہوں گے آپ سے رہنمائی درکار ہے ۔میں سعودیہ میں کام کرتا ہوں کمپنی مجھے سالانہ یونیفارم دیتی ہے ،جس کی مالیت لگ بھگ 60000 روپے بنتی ہے ،میں چاہتا ہوں کہ نئے خریدنے کے بجائے میرا پرانے پر گزارہ ہو سکتا ہے اور یہ رقم میں فرضی بل بنا کہ لے سکتا ہوں کیا یہ رقم میرے لیے حلال ہو گی؟
سائل کو کمپنی کی طرف سے یونیفارم کی مد میں سالانہ جو رقم دی جاتی ہے ، اسے کمپنی کے اصول کے مطابق یونیفارم میں صرف کرنالازم ہے، کمپنی ذمہ داران کے علم میں لائے بغیر یونیفارم کے لیے دی گئی رقم کو اپنے استعمال میں لانا اور کوئی فرضی اور جعلی بل بنا کر کمپنی میں جمع کرانا دھوکہ دہی پر مشتمل عمل ہے ، جو کہ شرعادرست نہیں، جس سے سائل کو اجتناب کرنا چاہیے، البتہ کمپنی کی طرف مذکور رقم دوسرے کسی مد میں خرچ کرنے کی اجازت ہو تو پھر اس کی گنجائش ہو گی ، ورنہ نہیں۔
و في صحيح البخاري: وقال النبي صلى الله عليه وسلم: «المسلمون عند شروطهم» اھ (3/ 92)
و في صحيح مسلم: حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب وهو ابن عبد الرحمن القاري ح، وحدثنا أبو الأحوص محمد بن حيان، حدثنا ابن أبي حازم، كلاهما عن سهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا» اھ (1/ 99)
و في مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى اھ (2/ 889)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0