احکام نماز

غلطی سے پہلی رکعت میں بیٹھ جائے تو کیا حکم ہے؟

فتوی نمبر :
44163
| تاریخ :
2021-03-01
عبادات / نماز / احکام نماز

غلطی سے پہلی رکعت میں بیٹھ جائے تو کیا حکم ہے؟

ایک ًشخص چار رکعت فرض پڑھ رہا تھا جب اُس نے پہلی رکعت کا دوسرا سجدہ کیا تو بجاٸے اُٹھنے کے وہ بیٹھ گیا تقریباََتین تسبیحات کی مقدار وہ بیٹھا رہا جب اُسے یاد آیا کہ یہ تو پہلی رکعت ہےتو فوراََ کھڑا ہوگیا کیا اس پر سجدہ سہو آٸے گا اور کتنی مقدار بندہ اگر پہلی رکعت میں دوسرے سجدے کے بعد بیٹھ جاٸےبجاٸے کھڑا ہونے کے تو سجدہ سہو لازم آتا ہے

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ سجدہ سہو کے وجوب کےلیے ایک سبب تاخیر رکن ہے اور تاخیر رکن کی مقدار اکثر فقہاء نے یہ قرار دی ہے کہ اتنی دیر تاخیر ہو جائے جس میں کوئی رکن نماز مثلاً رکوع یا سجدہ وغیرہ ادا ہو سکے، اوروہ تین مرتبہ ’’سبحان ربی العظیم‘‘ کہنے کے وقفے میں ہوتا ہے،لہٰذا صورت مسئولہ میں مذکور شخص پر تاخیر رکن کی مقدار بیٹھنے کی وجہ سے سجدہ سہو لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفتاوى الهندية: ولا يجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه اھ (1/ 126)
وفی غنیة المتملی: ونحو ذلك أو فرغ من الفاتحة وتفکر أی سورة یقرأ أو طال تفکره یجب علیه سجود السهو (ثم الأصل فی حکم التفکر) أنه (إن منعه عن اداء رکن) کقراءة آیة أو ثلث أو رکوع أو سجود (أو) عن اداء (واجب) کالقعود (یلزمه السهو) اھ
وفی حاشية ابن عابدين: وكذا القعدة في آخر الركعة الأولى أو الثالثة فيجب تركها، ويلزم من فعلها أيضا تأخير القيام إلى الثانية أو الرابعة عن محله، وهذا إذا كانت القعدة طويلة، أما الجلسة الخفيفة التي استحبها الشافعي فتركها غير واجب عندنا اھ (1/ 469) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسد اللہ قلاتی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 44163کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات