اسلام علیکم مولانا صاحب
میرا سوال یہ ہے کہ میری اہلیہ کو کوئی بیماری ہے جس کی وجہ سے اس کو دوا کھانی پڑتی ہے دوا میں بہت نشہ ہوتا ہے کھانے کے بعد ہوش نہیں رہتا ایسی صورت میں وہ بہت مشکل سے نماز پڑتی ہے مگر جب نماز میں کھڑی ہو جاۓکھڑی رہتی ہے بیٹھ جائے تو بیٹھی رہتی ہے ہوش نہیں رہتا کیا ایسی صورت میں نماز ادا کرنا درست ہے یا ہوش آنے کے بعد قضاء کر لے یا ایسی صورت میں نماز فرض ہی نہیں ہوتی یعنی واجبالادا ہی نہیں ہوتی تفصیل سے جواب دیں
سائل کی اہلیہ مذکو ربیماری کے لیے دواؤں کے استعمال کے بعد اگر اس پر ایسی کیفیت طاری ہوتی ہو، جس کی وجہ سے وہ کسی چیز کی تمیز نہ کر سکتی ہو تو ایسی کیفیت کے ہوتے ہوئے نماز پڑھنا شرعاً لازم نہیں، (اور نہ ہی ایسی حالت میں پڑھی گئی نمازیں درست ادا ہوں گی)اور اگر یہ کیفیت ایک دن ایک رات سے کم عرصہ رہی تو ایسی حالت میں ادا کی گئی نمازوں کی قضاء بھی لازم ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ﴾(النساء: 43)
وفی الدر المختار: (والسكران من لا يفرق بين) الرجل والمرأة و (السماء والأرض. وقالا: من يختلط كلامه) غالبا، فلو نصفه مستقيما فليس بسكران بحر (ويختار للفتوى) لضعف دليل الإمام فتح. (4/ 41)
وفی بدائع الصنائع: (ومنها) الإغماء والجنون والسكر الذي يستر العقل أما الإغماء فلأنه في استرخاء المفاصل، واستطلاق الوكاء فوق النوم مضطجعا، وذلك حدث فهذا أولى وأما الجنون فلأن المبتلى به يحدث حدثا، ولا يشعر به فأقيم السبب مقام المسبب، والسكر الذي يستر العقل في معنى الجنون في عدم التمييز وقد انضاف إليه استرخاء المفاصل اھ(۱/ ۳۰)
وفی حاشیة الطحاوی علی المراقی الفلاح: اعلم أن المسألة علی أربعة أوجه إن دام به العجز ست صلوات وهو لا یعقل سقط عنه القضاء إجماعا وإن کان أقل وهو یعقل قضی إجماعا اھ (۱/ ۴۳۳) واللہ أعلم بالصواب!