احکام نماز

فرض نمازوں کےبعد اجتماعی دعا کاحکم

فتوی نمبر :
44593
| تاریخ :
2021-03-21
عبادات / نماز / احکام نماز

فرض نمازوں کےبعد اجتماعی دعا کاحکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا کے حوالے سے علماءِ دیوبند کے مختلف فتاوے نظر سے گذرے ہیں کسی میں اجتماعی دعا بعد صلوۃ الفرض کے التزام اور ضروری سمجھنے کو بدعت لکھا ہے کسی میں اجتماعی دعا کا ثبوت ملتا ہے -
براہ کرم تفصیل سے بتادیں کہ بدعت ہے تو کیوں اور اگر بدعت نہیں تو ان فتووں کا کیا جواب دیں عوام کو ؟ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

فرض نمازوں کے بعد امام و مقتدی یا منفرد کا دعا کرنا اور دعا میں ہاتھ اٹھانا، اسی طرح فجر اور عصر میں امام کا مقتدی کی طرف منہ کرکے دعا کرنا احادیثِ مبارکہ و روایاتِ فقہیہ سے ثابت ہے جو کہ سنتِ مستحبہ ہے، پس امام اور مقتدی اس سنت پر اگرعمل کریں تو ضمناً خود بخود اجتماع ہوجائےگا اوریہ جائز ہے، ہاں دعا آہستہ مانگنا افضل ہے، کیونکہ قرآن وسنت میں اس کی ترغیب دی گئی ہے، اور اگر امام بآواز بلند دعا کرے اور مقتدی اس پر آمین کہیں تو تعلیماْ یہ بھی جائز ہے، اور شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں، کیونکہ فرائض کے بعد نفسِ دعا اور دعا میں ہاتھوں کا اٹھانا، آمین کہنا اور دعا کےختم پر دونوں ہاتھوں کا چہرے پر پھیرنا احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے، لہذا اس کو براسمجھنا اور بدعت سیئہ کہنا صحیح نہیں۔
البتہ مروجہ اجتماعی دعا کہ امام و مقتدی سب ملکر ہی دعا کریں، ابتداء بھی ایک ساتھ ہوتی ہے اس طور پر کہ امام افتتاحیہ چند کلمات الحمد لله وغیرہ اونچی آواز سے ادا کرتا ہے، اور انتہا بھی ایک ساتھ ہوتی ہے جس کی بناء پر مقتدی امام کی دعا کا انتظار کرتے رہتے ہیں، اور امام سے پہلے اپنی دعا ختم نہیں کر سکتے ہیں، اگر پہلے ختم کریں تو لوگوں میں معیوب سمجھا جاتا ہے ، بعض مقامات پر تو امام کی جہری دعا کے جواب میں بآوازِ بلند آمین یا دوسرے جوابی کلمات نہ بولنے والے کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، اور اسی طرح بعض مقامات پر مقتدی کو اپنی نماز سے فارغ ہوکر امام کی دعا کے انتظار میں بیٹھنا سنتوں اور نفلوں کے بعد اجتماعی دعا کرنا یہ سب باتیں ایسی ہیں جن کا شریعت سے دور کا تعلق بھی نہیں ہے اور قرونِ مشہود لھا بالخیر میں اس کا ثبوت نہیں ملتا۔ اس لئے یہ طریقہ من گھڑت اور بدعت ہے اس سے احتراز لازم ہے۔
خلاصہ یہ کہ امام اورمقتدی کا اجتماع ایک ضمنی چیز ہے، مقصود نہیں، لہذا اس کو اصل دعا سے مزید بڑھانے کی کوشش کرنا اور ضروری سمجھنادرست نہیں، بلکہ امام کو بھی اختیار ہے جتنی دیر چاہے دعا مانگے اور مقتدی کو بھی اختیار ہے، اس میں کوئی ایک دوسرے کا تابع نہیں، لہذا اگر چاہے تو مختصر دعا کرکے چلا جائے اور چاہےتوامام کے ساتھ دعا ختم کرے، اگر چاہے تو امام کی دعاسے زیادہ دیر تک دعامانگتا رہے ہر طرح جائز ہے اوران میں سے کسی بھی طرح کرے تو فرائض کے بعد کی یہ سنت مستحبہ ادا ہو جائے گی۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في سنن الترمذي: عن أبي أمامة قال: قيل يا رسول الله: أي الدعاء أسمع ؟ قال: جوف الليل الآخر، ودبر الصلوات المكتوبات. هذا حديث حسن (۲۰۵/۵)
وفي مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح : «لقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم كثيرا ينصرف عن يساره : هذا يدل على كمال اطلاع الراوي على أحواله صلى الله عليه وسلم قال الطيبي وفيه أن من أصر على أمر مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال فكيف من أصر على بدعةأو منكر ؟ (٢ / ٧٥٥)
وفي اعلاء السنن: ورحم الله طائفة من المبتدعة في بعض اقطار الهند حيث واظبوا على ان الامام ومن معه يقومون بعد المكتوبة بعد قراء تهم اللهم انت السلام ومنك السلام الخ ثم اذا فرغوا من فعل السنن والنوافل يدعو الامام عقب الفاتحة جهرا بدعاء مرة ثانية والمقتدون يؤمنون على ذلك وقد جرى العمل منهم بذلك على سبيل الالتزام والدوام حتى أن بعض العوام اعتقدوا ان الدعاء بعد السنن والنوافل باجتماع الامام والمأمومين ضرورى واجب ومن لم يرض بذلك يعزلونه عن الامامةويطعنونه ولا يصلون خلف من لا يصنع بمثل صنيعهم وايم الله ان هذا امر محدث في الدين - (۲۰۵/۳)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 44593کی تصدیق کریں
1     830
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات