رمضان کے دوران آفس کی ڈیوٹی ٹائمنگ ۳۰: ۱ تک ہے، جس میں کوئی بریک مینشن نہیں ہے، کیا ملازمین ۱:۱۵ ظہر کی نماز پڑھ سکتے ہیں؟ جبکہ ڈیوٹی ۱:۳۰ بجے ختم ہوتی ہے اور مسجد میں اس کے بعد بھی جماعت ہوتی ہے۔
صورتِ مذکور میں اگر متعلقہ ذمہ داران کو ملازمین کے ۱:۱۵ ظہر کی نماز پڑھنے پر کوئی اعتراض نہ ہو تو ۱:۱۵ پر بھی وہ نماز پڑھ سکتے ہیں، تاہم اگر ذمہ داران کی طرف سے دوران ڈیوٹی ۱:۱۵ پر نماز پڑھنے کی اجازت نہ ہو اور ملازمین بغیر اجازت کے ۱:۱۵ پر ظہر کی نماز پڑھتے ہوں تو ان کے لیے ایسا کرنا درست نہیں، بلکہ بریک کے بعد مقررہ وقت پر نماز کی ادائیگی کا اہتمام کر نا چاہیے۔
ففی حاشية ابن عابدين: (قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة اھ (6/ 70)