حضرت اگر کوئی شخص کسی نمازی کے سامنےسے گزرجائے تو اُسکا گناہ کیا ہوگا
نمازی کے کتنے آگے سے نکل سکتے ہیں اگر چھوٹی مسجد ہو تو کیا حکم ہے اور اگر بڑی مسجد ہے تو کیا حکم ہے وضاحت سے رہنمائی فرمایئے۔
نماز ی کے سامنے سے گزرنے پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں بیان ہوئی ہیں، چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نمازی کے آگے سے گزرنے والا اگر یہ جان لے کہ اس کی کیا سزا ہے تو وہ نمازی کے آگے سے گزرنے کے بجائے چالیس( سال تک) کھڑے رہنے کو پسند کرےگا، اس لیے نمازی اگر چھوٹی مسجد یا چھوٹے کمرے میں نماز پڑھ رہا ہو، (چھوٹی مسجد سے مراد وہ مسجد ہے جو کہ چالیس گز شرعی یعنی ساٹھ فٹ انگزیزی سے کم ہو) تو اس کے سامنے سے گزرنا ناجائز ہے، البتہ اگر نمازی بڑی مسجد (چالیس گز شرعی یعنی ساٹھ فٹ انگریزی یا اس سے زائد رقبہ والی مسجد) صحرا یا کسی میدان میں ہو اور اس کے آگے کوئی سترہ یا آڑ نہ ہو تو دو صفوں کے بقدر فاصلہ چھوڑ کر آگے سے گزرنے کی گنجائش ہے۔
ففی بدائع الصنائع: ويكره للمار أن يمر بين يدي المصلي؛ لقول النبي - صلى الله عليه وسلم - «لو علم المار بين يدي المصلي ما عليه من الوزر لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه» ، ولم يوقت يوما أو شهرا أو سنة ولم يذكر في الكتاب قدر المرور، واختلف المشايخ فيه قال بعضهم: قدر موضع السجود، وقال بعضهم: مقدار الصفين، وقال بعضهم: قدر ما يقع بصره على المار لو صلى بخشوع، وفيما وراء ذلك لا يكره وهو الأصح اھ (۱/ ۲۱۷)
وفی الدر المختار: (ومرور مار في الصحراء أو في مسجد كبير بموضع سجوده) في الأصح (أو) مروره (بين يديه) إلى حائط القبلة (في) بيت و (مسجد) صغير، فإنه كبقعة واحدة اھ (1/ 634)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله في الأصح) هو ما اختاره شمس الأئمة وقاضي خان وصاحب الهداية واستحسنه في المحيط وصححه الزيلعي، ومقابله ما صححه التمرتاشي وصاحب البدائع واختاره فخر الإسلام ورجحه في النهاية والفتح أنه قدر ما يقع بصره على المار لو صلى بخشوع أي راميا ببصره إلى موضع سجوده؛ وأرجح في العناية الأول إلى الثاني بحمل موضع السجود على القريب منه وخالفه في البحر وصحح الأول، وكتبت فيما علقته عليه عن التجنيس ما يدل على ما في العناية فراجعه (قوله إلى حائط القبلة) أي من موضع قدميه إلى الحائط إن لم يكن له سترة، فلو كانت لا يضر المرور وراءها على ما يأتي بيانه (قوله في بيت) ظاهره ولو كبيرا وفي القهستاني: وينبغي أن يدخل فيه أي في حكم المسجد الصغير الدار والبيت (قوله ومسجد صغير) هو أقل من ستين ذراعا، وقيل من أربعين، وهو المختار كما أشار إليه في الجواهر قهستاني اھ (1/ 634) واللہ أعلم بالصواب!