میں نے گھر سے سفر شروع کیا، سفر یکطرفہ ۱۱۵ کلومیٹر تھا، واپسی پر ظہر کی نماز کا وقت تھا اور وین تیار تھی، نماز پڑھتا تو وین چھوٹ جاتی، وین میں بیٹھ گیا ، جب اپنے شہر کے بس اسٹیشن پر پہنچا تو گھر روانہ ہوگیا۔ گھر پہنچتے پہنچتے عصر کا ٹائم ہو گیا تھا، اب ظہر کی نماز جو قضاء ہو گئی تھی، تو قصر والی پڑھنی ہے یا پوری قضاء ؟ یعنی ۲ رکعت یا ۴ رکعت ؟
بلاعذر یا معمولی عذر کی بناء پر نماز قضاء کرنا، گناہ کبیرہ ہے اور دنیا و آخرت کی بھلائیوں سےمحرومی کا سبب ہے، اس لیے نماز کو اپنے وقت سے مؤخّر کر کے پڑھنا جائز نہیں ہے، تاہم جب سائل کی ظہر کی نماز دورانِ سفر قضاء ہوئی ہے تو اب پڑھنے کی صورت میں وہ قصر ہی کرےگا۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَالَّذِينَ هُمْ عَلى صَلَواتِهِمْ يُحافِظُونَ﴾ (المؤمنون:۹)
وفی تفسير روح المعاني: ﴿وَالَّذِينَ هُمْ عَلى صَلَواتِهِمْ﴾ المكتوبة عليهم كما أخرج ابن المنذر عن أبي صالح وعبد بن حميد عن عكرمة يُحافِظُونَ بتأديتها في أوقاتها اھ(9/ 214)
وقال اللہ تعالیٰ: ﴿وإذا ضربتم في الأرض فليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنكم الذين كفروا إن الكافرين كانوا لكم عدوا مبينا﴾ (النساء: 101)
وفی تفسير البغوي: قوله عز وجل: وإذا ضربتم في الأرض أي: سافرتم، فليس عليكم جناح، أي: حرج وإثم أن تقصروا من الصلاة، يعني من أربع ركعات إلى ركعتين، وذلك في صلاة الظهر والعصر والعشاء اھ(1/ 687)
وفی الدر المختار: (والمعتبر في تغيير الفرض آخر الوقت) وهو قدر ما يسع التحريمة (فإن كان) المكلف (في آخره مسافرا وجب ركعتان وإلا فأربع) اھ(2/ 131) واللہ أعلم بالصواب!