السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! مجھے غسلِ جنابت کا علم نہیں تھا ، میری عمر 23 سال ہوگئی ہے ، میری ان تمام نمازوں کا کیا بنے گا جو میں نے غسلِ جنابت کئے بغیر ادا کی ہیں ، بلوغت کے بعد سے ؟ براہِ مہربانی میری رہنمائی فرمائیں۔جزاک اللہ خیرا۔
جنابت کے بعد غسلِ صحیح کرنے تک سائل نے جتنی نمازیں حالتِ جنابت میں پڑھی ہیں ، وہ درست ادا نہیں ہوئیں ، لہذا ان کا اعادہ لازم ہے اور جتنے روزے اس حالت میں رکھے ، وہ درست ادا ہوچکے ہیں ، لہذا ان کا اعادہ لازم نہیں ، کیونکہ جنابت سے روزے میں کوئی فرق نہیں آتا۔
کما فی الدر المختار : (طھارۃ بدنه ) ای جسدہ لدخول الأطراف فی الجسد (الیٰ قوله) من حدث بنوعیه اھ (1/260)۔
و فی بدائع الصنائع: لأن الجنابة لاتمنع من وجوب الصوم بلاشک و یصح اداؤہ مع الجنابة اھ (1/283)۔
و فی الھندیة : و من حکمه أن الفائتة تقضی علیٰ الصفة التی فاتت عنه اھ (1/260)۔
و فی رد المحتار: اذ لایعذر بالجھل بالأحکام فی دار الاسلام اھ (1/134)۔