السلام علیکم! حضرت میرا گھر اٹک میں ہے اور گذشتہ ۴ماہ سے جاب اسلام آباد میں کر رہا ہوں، جس کا فاصلہ تقریباً ۱۱۰ کلومیٹر ہے۔ میری رہائش ایک ہاسٹل میں ہے اور میں کبھی ۱۰ تو کبھی۱۵ دنوں بعد گھر جاتا ہوں، اس لیے نماز کے بارے میں راہنمائی فرمائیں کہ قصر پڑھنی چاہیے یا مکمل پڑھوں؟
سائل نے اگر اسلام آباد میں ایک دفعہ بھی پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت کی ہو تو جب تک اسلام آباد میں سائل کی ملازمت باقی ہو اور ہاسٹل میں اس کے رہائش کا انتظام اور ضروری اشیاء موجود ہوں تو اسلام آباد اس کا وطنِ اقامت شمار ہوگا،اور اسلام آباد میں قیام کے دوران سائل کے ذمہ پوری نماز پڑھنا لازم ہے،البتہ اگر سائل نے اسلام آباد میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت نہ کی ہو تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ وہاں قیام کے دوران اور راستے میں اپنی انفرادی نمازوں میں قصر کرنا لازم ہوگا۔
ففی الهداية في شرح بداية المبتدي: السفر الذي يتغير به الأحكام أن يقصد الإنسان مسيرة ثلاثة أيام ولياليها بسير الإبل ومشي الأقدام(الی قوله) وفرض المسافر في الرباعية ركعتان لا يزيد عليهما.اھ(1/80)
وفی الدر المختار: (من خرج من عمارة موضع إقامته) من جانب خروجه وإن لم يجاوز من الجانب الآخر. وفي الخانية: إن كان بين الفناء والمصر أقل من غلوة وليس بينهما مزرعة يشترط مجاوزته وإلا فلا (قاصدا)(الی قوله)ومن طاف الدنيا بلا قصد لم يقصر(مسيرة ثلاثة أيام ولياليها).اھ(2/121) واللہ تعالی اعلم بالصواب!