احکام نماز

نماز میں دھیان نہ ہو تو ایسی نماز کو دُہرانا جائز ہے یا نہیں؟

فتوی نمبر :
48703
| تاریخ :
2021-12-28
عبادات / نماز / احکام نماز

نماز میں دھیان نہ ہو تو ایسی نماز کو دُہرانا جائز ہے یا نہیں؟

السلام علیکم !اگر فرض پڑھنے کے بعد یہ نما ز اچھی نہیں لگی یعنی دھیان نماز میں نہیں تھا ،کچھ سوچتے رہ گئے کونسی سورت پڑھی ہے وہ یاد نہیں تھی ،تو اس صورت میں نماز کو دہرانا جائز ہے یا نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ کو چاہیے کہ آئندہ کیلیے خوب دھیان اور توجہ سے نماز اداکرنے کا اہتمام کرے ،از خود کسی دوسری طرف توجہ منتقل نہ کرے ،تاہم اگر اس کے باوجود دھیان کسی اور طرف چلاجائے تو یاد آنے پر فوراً دوبارہ نماز کی طرف لے آئے ،لیکن صرف دھیان کسی اور طرف منتقل ہونے سے نماز فاسد نہ ہوگی ،لہذا سائلہ نے اب تک جو نماز یں بے توجّہی سے پڑھی ہیں ،اگر اس میں کوئی مفسدِ صلوٰۃ نہ پایاگیا ہو تو ان نمازوں کے دھرانے کی ضرورت نہیں وہ نمازیں درست ادا ہو چکی ہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی التنزل العزیز:فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ، الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (سورة الماعون:۵،۴ )
وفی روح البيان: والمعنى ساهون عن صلاتهم سهو ترك لها وقلة التفات إليها وعدم مبالاة بها وذلك فعل المنافقين او فسقة من المؤمنين اھ(الی قوله) وقرأ ابن مسعود رضى الله عنه لاهون مكان ساهون فعلى العاقل ان لاتفوته الصلاة التي هى من باب المعراج والمناجاة ولا يعبث فيها باللحية والثياب ولا يكثر والتثاؤب والالتفات ونحوهما ومن المصلين من لا يدرى عن كم انصرف ولا ما قرأ من السورة الَّذِينَ هُمْ يُراؤُنَ اى يرون الناس أعمالهم ليروهم الثناء عليها اھ (10/ 522)
وفی ردالمحتار: باب ما يفسد الصلاة، وما يكره فيها:الفساد والبطلان في العبادات سواء لأن المراد بهما خروج العبادة عن كونها عبادة بسبب فوات بعض الفرائض، وعبروا عما يفوت الوصف مع بقاء الفرائض من الشروط والأركان بالكراهة اھ(1/ 613) واللہ اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 48703کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات