میں امام مسجد ہوں میں نے جانتے ہوئے بغیر وضو کے نماز پڑھانا شروع کردی، پھر خوف طاری ہوگیا، میں نماز میں ہی مقتدی کو امام بناکر چلا گیا، مقتدی نے نماز مکمل کی، ا س نماز کا کیا حکم ہے مقتدیوں کے لیے؟
سائل کا دانستہ بے وضو نماز پڑھانا بڑی جسارت ا و ر سخت گناہ والا عمل ہے، ا گر استخفافاً یہ عمل نہ کیا ہو بلکہ غفلت یا کسی عذر کی وجہ سے ایسا کیا ہو، تو ا س سے سائل کا فر تو نہ ہوگا، مگر ا س پر سائل کو بصدقِ دل توبہ کرنا ا و ر آئندہ ا س طرح کے عمل سے مکمل اجتناب لازم ہے، جبکہ ا س صورت میں دوسر ے آدمی کو خلیفہ بنانا بھی درست نہیں تھا، ا س لئے ا س نماز کو دہرانا لازم ہے۔
کما فی صحیح مسلم: قال: هذا ما حدثنا ابو هریرة عن محمد رسول اللہﷺ فذکر أحادیث منها، وقال رسول اللہﷺ: لا تقبل صلاة احدکم إذا أحدث حتی یتوضأ اھ (۱/ ۲۰۴)۔
وفی الآحاد والمثانی لابن ابی عاصم: عن ابیه عن جده، ان النبیﷺ خرج فی ساعة لا صلاة فیها إلی المسجد، فجلس علی المنبر ساکتا، فتداعی النا س لخروج النبیﷺ، حتی اذا کثر الناس قام فحمد اللہ وأثنی علیه، ثم قال: انه لا صلاة إلا بوضوء. (۲/ ۱۵۲)۔
وفی الجوهره النیرهؒ (باب شروط الصلاة التی تتقدمها) یجب علی المصلی أن یقدم الطهارة من الاحداث والانجاس علی ما قدمناه ای من بیان الطهارتین. (۱/ ۴۶)۔
وفی بدائع الصنائع: فمنها ان کل ما هو شرط جواز البناء فهو شرط جواز الاستخلاف حتی لا یجوز مع الحدث العمد والکلام والقهقهة وسائر نواقض الصلاة کما لا یجوز البناء مع هذه الاشیاء؛ لأن الاستخلاف یکون للقائم ولا قیام للصلاة مع هذه الاشیاء بل تفسد اھ (۱/ ۲۲۶)۔