احکام نماز

زبان سے نماز کی نیت کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
58144
| تاریخ :
2022-09-05
عبادات / نماز / احکام نماز

زبان سے نماز کی نیت کرنے کا حکم

السلام علیکم ؛میں گھر سے ظہر کی نماز کی نیت کرکے گھر سے مسجد چلا جاتا ہوں اور امام کے پیچھے کھڑے ہوکر اگر نیت نہیں باندھو ں، جیسے کے مے ٤ رکعت نماز ادا کرتا ہو ں پیچھے اس امام کے، جیسے کہ عام طورپر لوگ پڑھتے ہیں تو اگر میں نے یہ نیت نہیں پڑھی تو میری نماز ھوگئی یا نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نیت محض دلی استحضار اور ارادے کا نام ہے، زبان سے نیت کے الفاظ دہرانا لازم اور ضروری نہیں، اس لیے فقہائے کرام نے نماز کی صحت کے لیے زبان سے نیت کے الفاظ کہنے کولازم اور ضروری قرارنہیں دیا بلکہ نماز شروع کرتے ہوئے وقت نماز کےاستحضار کو کافی قرار دیاہے، تاہم زبان سے الفاظ نیت دہرانا چونکہ نماز میں یکسوئی کا سبب ہے اس لیے فقہائے کرام نے اسے افضل قراردیاہے۔
صورت مسئولہ میں اگر امام کے ساتھ نماز میں شامل ہوتے وقت سائل کو نماز کے وقت کا استحضار تھا، تو اس کی نماز شرعادرست ادا ہوچکی ہے، بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 58144کی تصدیق کریں
1     2164
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات