دوسرے سجدے کےبعدبیٹھنے کاکیا حکم ہے ؟ براہ راست کھڑے ہونا ہے یا بیٹھ کرکھڑا ہونا ہے ؟
رہنمای فرمائیں،جزاک اللہ
پہلی اور تیسری رکعت میں دوسرے سجدے کے بعد تھوڑی دیر بیٹھ کر کھڑا ہو جانا ( قعدۂ استراحت) عند الاحناف مسنون نہیں،لہذا دو سرے سجدہ کے بعد تھوڑی دیر بیٹھنے کے بجائے اپنے قدموں کے پنجوں کے بل سیدھا کھڑاہونا چاہئیے ۔
کمافی سنن الترمذي: عن ابي هريرة رضى الله عنه قال : كان النبي ينهض في الصلوة على صدور قدميه اھ (ج 1 ص : 205)-
وفی الصحيح للبخارى: عن ابن مسعود أنه كان ينهض في الصلوة على صدور قدميه ولم يجلس اھ (ج 1 ص : 262)۔
وفی الدر المختار: ويكبر ويسجد ثانية مطمئناً ويكبر للنهوض على صدور قدميه بلا اعتماد وقعود استراحة ولوفعل لاباس بها۔ (ج 2 ص : 262)۔
وفی الهداية: فاذا اطمأَنَّ ساجداً كبر وقد ذكرناه واستوى قائماً على صدور قدميه ولا يقعد ولا يعتمد بيديه على الارض اه (ج : 1 ص : 110) ۔