احکام نماز

نماز قصر کے متعلق سوال

فتوی نمبر :
59052
| تاریخ :
2014-03-04
عبادات / نماز / احکام نماز

نماز قصر کے متعلق سوال

میں اسلام آباد میں رہتا ہوں، اسلام آباد میں رہتے ہوئے مجھے تین سال ہو چکے ہیں، اسلام آباد منتقل ہونے سے پہلے میں کراچی میں رہتا تھا، میری پیدائش کراچی کی ہے اور میں نے 41 سال کراچی میں گزارے ہیں، کراچی میں میرے نام سے جائیداد بھی ہے جو کہ کرائے پر دی ہوئی ہے، اس کے علاوہ دو عدد پلاٹ بھی ہیں۔ کراچی میں میرے والدین کا گھر بھی ہے۔
ملازمت اور کام کے سلسلے میں مجھے ہر ۱۵ دن بعد ایک دن کے لیے کراچی آنا ہوتا ہے کراچی میں عموماً اپنے والدین کے گھر رُکتا ہوں، کبھی کبھی ہوٹل میں بھی رُکنا پڑتا ہے۔ کراچی میں ایک یا ایک سے زائد دن رُکنے کی صورت میں نماز کی ادائیگی کے لیے میرے درج ذیل سوالات ہیں:
۱۔ کیا کراچی میں مجھے مکمل نماز ادا کرنی ہوگی یا قصر نماز ادا کرنی ہوگی؟
۲۔ اگر مجھے قصر نماز دا کرنی تھی،لیکن اب تک میں نے مکمل نماز ادا کی ہے تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟
۳۔ کراچی سے اسلام آباد جاتے ہوئے یا اسلام آباد سے کراچی آتے ہوئے کبھی کبھی نماز کا وقت دورانِ پرواز شروع ہو کر ختم ہو جاتا ہے، اس دوران نماز کی ادائیگی کے لیے کیا حکم ہے؟ اس کا کیا طریقہ ہے؟ اگر جہاز میں نماز ادا نہ کی جا سکے تو کیا منزل پر اُتر کر ادا کریں تو قضا ہوگی یا نہیں؟
۴۔ نماز لوٹانے کا کیا طریقہ ہے؟ اس کے لیے نیت کیا اور کیسے کرنی ہوگی؟
۵۔ یہ کہا جاتا ہے کہ دورانِ پرواز جہاز میں ادا کی ہوئی نماز ، منزل پر اتر کر دوبارہ لوٹانی پڑے گی۔ کیا یہ صحیح ہے؟
نوٹ: اسلام آبادمیں میری رہائش فی الحال اگرچہ کرایہ کے مکان میں ہے،لیکن اپنا پلاٹ بھی اور مستقبل میں بھی فی الحال کراچی شفٹ ہونے اور رہائش رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں، بلکہ اسلام آباد میں ہی رہنے کا مستقل پروگرام ہے۔ اور سائل کے بیوی بچے بھی ان کے ساتھ اسلام آباد میں ہیں، جبکہ سائل نے فون پر بتایا ہےکہ اس نے کراچی کو بالکل ترک کر کے اسلام آباد ہی کو اپنا وطن اصلی بنانے کا عزم کر لیا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جب سائل نے کراچی کو مکمل طور پر چھوڑ کر اسلام آباد کو اپنا وطنِ اصلی بنایا ہے تو اس صورت میں ان کا وطنِ اصلی اسلام آباد بن چکا ہے اور کراچی ان کا وطنِ اصلی نہیں رہا ، اس لیے جب بھی وہ کراچی پندرہ دنوں سے کم کے لیے آئیں تو اپنی انفرادی نماز میں قصر کریں۔
تاہم اب تک جو نمازیں لاعلمی میں پوری پڑھی ہیں وہ ادا ہو چکی ہے ، ان کو دوبارہ دہرانے کی ضرورت نہیں، جبکہ دورانِ سفر پرواز کے دوران آنے والی نمازوں کو جہاز ہی میں قبلہ رُو کھڑے ہو کر پڑھنا لازم ہے۔ البتہ کسی وجہ سے پڑھ نہ سکیں تو مقام میں پہنچ کر قضاء کرے، جبکہ سفر کے دوران قضاء ہونے والی نمازوں کی قضاء کا طریقہ یہ ہے کہ ’’فلان دن فلاں تاریخ کی مثلاً ظہر کی نماز کی قضاء کرتا ہوں‘‘ کے الفاظ کہے تاہم جو نماز سفر میں قضاء ہو اس کی قضاء میں بھی قصر ہی ہوگی، جبکہ دورانِ پرواز پڑھی ہوئی نماز کا اعادہ لازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی حاشية ابن عابدين: (قوله الوطن الأصلي) ويسمى بالأهلي ووطن الفطرة والقرار ح عن القهستاني. (قوله أو تأهله) أي تزوجه. (إلی قوله) (قوله أو توطنه) أي عزم على القرار فيه وعدم الارتحال اھ(2/ 131)۔
وفی الدر المختار: (فلو أتم مسافر إن قعد في) القعدة (الأولى تم فرضه و) لكنه (أساء) لو عامدا لتأخير السلام وترك واجب القصر و واجب تكبيرة افتتاح النفل وخلط النفل بالفرض اھ(2/ 128)۔
وفیه أیضا: (والقضاء يحكي) أي يشابه (الأداء سفرا وحضرا) (2/ 134)۔
وفی الدر المختار: (ولا بد من التعيين عند النية) فلو جهل الفرضية لم يجز(إلی قوله) (لفرض) أنه ظهر أو عصر قرنه باليوم أو الوقت أو لاهو الأصح (ولو) الفرض (قضاء) (1/ 419،418)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59052کی تصدیق کریں
0     1020
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات