کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ "مسقط"( عمان) میں کچھ لوگ نماز اس طرح پڑھتے ہیں کہ تکبیرِتحریمہ کے بعد ہاتھ نہیں باندھتے، بلکہ ارسال کرتے ہیں ، اذان ہماری طرح کہتے ہیں، جبکہ اقامت ایک ہی دفعہ جیسا کہ عرب میں عموم ہے ، کرتے ہیں۔ پھر ان میں کچھ لوگ سلام ایک طرف کہتے ہیں، بعض دونوں طرف سلام کہتے ہیں، سلام کے بعد اجتماعی دعا نہیں کرتے، بلکہ انفرادی دعا اونچی آواز میں کرتے ہیں ، چوتھا کلمہ، آیتِ کرسی، چاروں قل بلند آوز سے کہتے ہیں، بظاہر شرک نہیں کرتے ، گھر سے نکلنے کے بعد تھوڑے سے سفر پر ہی جانا ہو تو جمع بین الصلاتین کرتے ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ کیا ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے؟ اور اگر ان کے پیچھے نماز پڑھ لی ہے تو کیا اُس کا اعادہ ضروری ہے؟
نوٹ: سلام صرف ایک بار کہتے ہیں منہ کا رخ بعض ایک طرف کرتے ہیں اور بعض دونوں طرف ، ایک ہی مسجد میں بار بار جماعت کراتے ہیں، خواہ مسجد محلہ کی ہو یا راستے کی، بعض کی داڑھی بھی نہیں ہوتی، لیکن وہ بار بار جماعت کرانے کا بہت شوق رکھتے ہیں ، اگر کوئی سنت یا نفل نماز شروع کرے تو وہ پیچھے فرض نماز ادا کرنا شروع کر دیتے ہیں، ان لوگوں کے عقائد ہمیں معلوم نہیں ہیں۔
سوال میں ذکر شدہ افعال میں سے اکثر افعال مثلاً اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہنا اور نماز میں ارسال کرنا، صرف ایک بار سلام کہنا اور مطلق سفر میں بھی جمع بین الصلاتین کرنا مذہبِ مالکیہ کے فروعات میں سے ہیں۔ البتہ متنفل کے پیچھے مفترض کی اقتداء ان کے نزدیک بھی صحیح نہیں ، اور ایک مسجد میں بار بار جماعت کرانا بھی مکروہ ہے ، اگر واقعۃً بھی یہ لوگ مذہبِ مالکیہ کے مقلد ہوں تو ان کے پیچھے حنفی کے لیے نماز پڑھنا اس وقت تک صحیح ہے جب تک وہ اُن شرائط کا لحاظ رکھتے ہوں جو مذہبِ حنفیہ میں نماز کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہیں اور ان چیزوں سے احتراز کرتے ہوں جن سے نماز فاسد ہوجا تی ہے ، ورنہ ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے احتراز چاہیے۔
ففی الفقه الإسلامي وأدلته: وقال المالكية: يندب إرسال اليدين في الصلاة بوقار، لا بقوة، ولايدفع بهما من أمامه لمنافاته للخشوع. ويجوز قبض اليدين على الصدر في صلاة النفل لجواز الاعتماد فيه بلا ضرورة، ويكره القبض في صلاة الفرض لما فيه من الاعتماد أي كأنه مستند اھ(2/ 874)۔
وفی الفقه على المذاهب الأربعة: المالكية قالوا: الإقامة كلها وتر، إلا التکبیر اوّلاً وآخرا فمثنیٰ الخ (۱/۲۹۲)۔
وفی الفقه على المذاهب الأربعة: المالكية قالوا: لا بد في الخروج من الصلاة أن يقول: السلام عليكم. بهذا الترتيب. وبهذا النص. ويكفي في سقوط الفرض عندهم أن يقولها مرة واحدة. ويسقط عن العاجز عن النطق باتفاق اھ(1/ 215)۔
وفیه أیضاً: المالكية قالوا: أسباب الجمع هي: السفر، والمرض، والمطر، والطين مع الظلمة في آخر الشهر، ووجود الحاج بعرفة أو مزدلفة: الأول: السفر، والمراد به مطلق السفر، سواء كان مسافة قصر أو لا، ويشترط أن يكون غير محرم ولا مكروه اھ(1/ 438)۔
وفیه أیضاً: ومن شروط الإمامة أن لا يكون الإمام أدنى حالاً من المأموم، فلا يصح اقتداء مفترض بمتنفل، إلا عند الشافعية اھ(1/ 380)۔
وفیه أیضاً: المالكية قالوا: يكره تكرار الجماعة مرة أخرى بعد صلاة الإمام الراتب في كل مسجد أو موضع جرت العادة باجتماع الناس للصلاة فيه اھ(1/ 395)۔
وفیه أیضاً: من شروط الإمامة أن تكون صلاة الإمام صحيحة في مذهب المأموم اھ(1/ 376)۔