احکام نماز

نماز میں عملِ کثیر کرنا

فتوی نمبر :
59086
| تاریخ :
2006-08-18
عبادات / نماز / احکام نماز

نماز میں عملِ کثیر کرنا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید امام کے ساتھ شروع ہی سے شریک ہوا پھر تیسری یا چوتھی رکعت کے سجدے میں جاتے ہوئے زید پیچھے کی طرف گرا تو ساتھ کھڑے آدمی نے سلام پھیر کر اس کو اٹھایا، اس کے بعد دونوں نیت کر کے اسی سجدے میں بھی امام کے ساتھ شریک ہوگئے اور امام کے ساتھ ہی سلام پھیر دیا تو آیا ان دونوں کی نماز ہو گئی یا نہیں یا ان کو پہلی تین رکعتیں لوٹانی چاہیے تھیں، یا ہر ایک کے لیے الگ الگ حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور دونوں افراد کی نماز نہیں ہوئی ، اس لیے ان پر اپنی نمازوں کا اعادہ لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: (و) يفسدها (كل عمل كثير) ليس من أعمالها و لا لإصلاحها، (إلی قوله) (ما لا يشك) بسببه (الناظر) من بعيد (في فاعله أنه ليس فيها) (1/ 624)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59086کی تصدیق کریں
0     808
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات