کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید امام کے ساتھ شروع ہی سے شریک ہوا پھر تیسری یا چوتھی رکعت کے سجدے میں جاتے ہوئے زید پیچھے کی طرف گرا تو ساتھ کھڑے آدمی نے سلام پھیر کر اس کو اٹھایا، اس کے بعد دونوں نیت کر کے اسی سجدے میں بھی امام کے ساتھ شریک ہوگئے اور امام کے ساتھ ہی سلام پھیر دیا تو آیا ان دونوں کی نماز ہو گئی یا نہیں یا ان کو پہلی تین رکعتیں لوٹانی چاہیے تھیں، یا ہر ایک کے لیے الگ الگ حکم ہے؟
مذکور دونوں افراد کی نماز نہیں ہوئی ، اس لیے ان پر اپنی نمازوں کا اعادہ لازم ہے۔
ففی الدر المختار: (و) يفسدها (كل عمل كثير) ليس من أعمالها و لا لإصلاحها، (إلی قوله) (ما لا يشك) بسببه (الناظر) من بعيد (في فاعله أنه ليس فيها) (1/ 624)۔